کورونا وباء کے باوجود تقاریب کا انعقاد خطرناک

   

Ferty9 Clinic

داعی اور مہمانوں کے لیے مشکلات کا موجب ، قواعد کی پابندی ندارد
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کے سبب پیدا شدہ حالات تقاریب کے انعقاد کی اجازت نہیں دیتے لیکن اس کے باوجود شہر میں شادی اور دیگر تقاریب کا انعقاد عمل میںلایا جارہا ہے جو کہ نہ صرف داعی بلکہ مہمانوں کیلئے بھی تکلیف کا سبب بننے لگا ہے۔دونوں شہروں میں منعقد کی جانے والی تقاریب کا جائزہ لیں تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ مسلم و غیر مسلم تقاریب کے انعقاد میں کوئی احتیاط نہیں کر رہے ہیں اور کئی شادی خانوں میں بھی تقاریب کا اہتمام کیا جانے لگا ہے ۔شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کے سلم علاقوں میں موجود چھوٹے چھوٹے شادی خانوں میں منعقد کی جانے والی تقاریب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں اسی لئے انہیں روکنے کے اقدامات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔علماء ‘ سیاسی قائدین اور قاضی حضرات پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان تقاریب کو روکنے میں اپنا تعاون کریں تاکہ امت مسلمہ میں اس بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کو یقینی بنایاجاسکے۔امت کے بااثر طبقہ کو چاہئے کہ وہ ان تقاریب کے انعقاد کو روکنے کے لئے اپیل جاری کریں اور ان تقاریب سے ہونے والے نقصانات سے واقف کروائیں تاکہ امت مسلمہ کو کورونا وائرس کی وباء سے بچایا جاسکے۔ غیر مسلموں میں بھی پارٹی اور تقاریب کے سبب کئی افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور غیر مسلموں میں معروف تجارتی طبقہ کورونا وائرس کی وباء سے بری طرح متاثر ہونے لگا ہے جس کی بنیادی وجہ تقاریب اور پارٹیوں کا انعقاد ہے۔مسلمانوں کو اس بات کو محسوس کرنا چاہئے کہ جب امت کے ذمہ دار علمائے اکرام کی جانب سے مساجد میں سماجی فاصلہ کی تاکید کی جا رہی ہے اور مساجد کو نمازوں کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو کیا ایسے میں تقاریب کا انعقاد درست ہے! فرائض کی ادائیگی میں احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی تاکید کی گئی تھی جس پر امت نے کافی بہتر انداز میں عمل کیا لیکن فرائض میں احتیاط کی اپیل پر تو عمل کیا گیا مگر خرافات کے معاملہ میں وہی بے اعتنائی کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب کورونا وائرس پھیل رہا ہے۔