کورونا وباء کے بعد ملک میں دماغی امراض کی شرح میں اضافہ

   

Ferty9 Clinic

ہر 6 ہندوستانی میں ایک متاثر، علاج پر فوری توجہ کی جائے، ماہر نفسیات کی کانفرنس سے گورنر کا خطاب

حیدرآباد۔یکم ؍ اگسٹ ، ( سیاست نیوز) ریاستی گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے دماغی صحت کے مسائل پر عوام میں شعور بیداری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں شعور کی کمی کے نتیجہ میں کئی افراد اور ان کے افراد خاندان خاموشی سے متاثر ہورہے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ دماغی صحت ہر انسان کیلئے ضروری ہے اور یہ صحت کا لازمی جز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کی بہتر طرز زندگی اور کارکردگی کیلئے دماغی صحت کا بہتر ہونا ضروری ہے۔گورنر سوندرا راجن انڈین سائیکاٹرک سوسائٹی تلنگانہ کی 7 ویں سالانہ کانفرنس کا راج بھون سے ورچول آغاز کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دماغی صحت سے متعلق بیماریاں دنیا بھر میں ایک بڑے مرض کے طور پر اُبھر رہی ہیں۔ نفسیاتی عدم توازن کے واقعات میں کورونا وباء کے بعد سے اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دماغی مسائل کا بروقت پتہ چلا کر علاج کیا جائے تو سنگین نتائج سے بچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے دماغی بیماری کو صحت کے اہم مسئلہ کے طور پر قبول کرنے اور کسی بھی جھجھک کے بغیر ماہر ڈاکٹرس سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ گورنر نے کہا کہ عام طور پر افراد خاندان اور دیگر افراد دماغی امراض کو اہمیت نہیں دیتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ افراد خاندان اور ہر کوئی شخص دماغی امراض کا شکار افراد کی مکمل طور پر مدد کرے اور طبی امداد کے ذریعہ اس کے بہتر علاج اور صحت یابی کو یقینی بنائے۔ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ہر چھٹویں ہندوستانی شہری کو دماغی صحت کے بارے میں مدد کی ضرورت ہے۔گورنر نے کہا کہ مختلف ریسرچ اور سروے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ 2012 اور 2030 کے درمیان دماغی صحت سے متعلق مسائل سے بڑی تعداد میں ہندوستانی متاثر ہوں گے اور 1.3 ٹریلین امریکی ڈالر کا نقصان ہوگا۔ گورنر نے بعض فلمی شخصیتوں کی جانب سے دماغی صحت کے بارے میں مباحث کے آغاز کا خیرمقدم کیا۔