واشنگٹن : کورونا وائرس کے پہلے دو برسوں کے دوران جب ہر جگہ غربت اور عدم مساوات میں اضافہ ہورہا تھا، اس دوران دنیا کے 10 امیر ترین افراد نے اپنی دولت دگنی کی ہے۔ خیراتی ادارے آکسفیم کی ایک رپورٹ کے مطابق ان 10 افراد کی دولت سات سو ارب ڈالر سے بڑھ کر ڈیڑھ ٹرلین ڈالر ہوگئی تھی۔ یعنی اوسطاً ان کی دولت میں روزانہ کے اعتبار سے 1.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ارب پتی افراد کی دولت میں گذشتہ 14 برسوں کے دوران اتنا اضافہ نہیں ہوا جتنا کورونا وائرس کی وبا کے دوران ہوا ہے۔یہ ایک ایسے وقت ہوا جب عالمی معیشت 1929 کے وال اسٹریٹ کریش کے بعد کے سب سے بڑے مالی بحران سے دوچار تھی۔آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں اس عدم مساوات کو ’اقتصادی تشدد‘ قرار دیا ہے اور کہا ہیکہ اس کہ وجہ سے روزانہ 21 ہزار افراد کی ہلاکت ہورہی ہے کیونکہ انہیں طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں اور انہیں بھوک، ماحولیاتی تبدیلیوں اور جنسی تشدد کا سامنا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وبا کی وجہ سے 16 کروڑ افراد غربت کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں اور اس کا اثر خواتین پر اور مغرب میں غیر سفید فام نسلی اقلیتوں پر پڑا ہے۔آکسفیم نے ٹیکس اصلاحات کے لیے گزارش کی ہے کہ دنیا بھر میں ویکسین بنانے کے عمل کو فنڈ فراہم کیا جائے اور طبی سہولیات، ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور جنسی تشدد کو روکنے میں مدد کی جائے تاکہ لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔