ٹیکہ کے بعد طبیعت بگڑ گئی، موت کی وجہ ویکسین نہیں ‘ محکمہ صحت
حیدرآباد۔ کورونا ویکسین کے ری ایکشن سے ہیلت ورکرس کی صحت بگڑنے کے واقعات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں ویکسین کے ری ایکشن سے 2 ہیلت ورکرس کی حالیہ دنوں موت واقع ہوگئی۔ تازہ واقعہ میں منچریال ضلع میں 55 سالہ فیلڈ لیول ہیلت کیر ورکر کی ٹیکہ اندازی کے بعد موت واقع ہوئی ۔ 55 سالہ سوشیلا جن کا تعلق کاسی پیٹ منڈل سے ہے انہیں 19 جنوری کو ٹیکہ دیا گیا اور طبیعت بگڑنے پر حیدرآباد کے نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس میں شریک کیا گیا جہاں وہ علاج کے دوران جانبر نہ ہوسکی۔ بتایا جاتا ہے کہ سوشیلا کو ٹیکہ اندازی کے بعد سانس میں تکلیف کی شکایت ہوئی جس پر انہیں منچریال کے مقامی ہاسپٹل میں شریک کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ حالت بگڑنے پر ہفتہ کے روز شام میں منچریال سے نمس حیدرآباد منتقل کیا گیا اس وقت پھیپھڑوں میں بڑی حد تک خرابی ہوچکی تھی۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت ڈاکٹر سرینواس راؤ نے کہا کہ سوشیلا کی موت ان کی طویل بیماری کا نتیجہ ہے اور کوویڈ ٹیکہ اندازی سے موت واقع نہیں ہوئی ہے۔ وہ طویل عرصہ سے پیپھڑوں میں انفیکشن اور ہائپر ٹنشن اور شوگر کی مریض تھی ان امراض کے نتیجہ میں خون کا دوران متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ موت کی وجہ کوویڈ ویکسین نہیں ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں ری ایکشن کے واقعات کے بعد ہیلت ورکرس ٹیکہ اندازی سے دور ہوچکے ہیں۔ خانگی شعبہ کے ہیلت ورکرس نے بڑی تعداد میں ٹیکہ اندازی سے انکار کیا ہے۔