مقررہ قواعد کی تکمیل نہیں کی گئی، شانتا بائیو ٹیکنکس کے ویرا پرساد ریڈی کا تاثر
حیدرآباد: ایسے وقت جبکہ دنیا بھر میں کورونا ویکسین کی تیاری پر حکومتوں نے توجہ مرکوز کردی ہے اور حیدرآباد کے دو اداروں سے ویکسین کی تیاری کے سلسلہ میں امید وابستہ ہیں، طبی شعبہ کے ایک ماہر نے ویکسین کی تیاری کو انسان کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ شانتا بائیو ٹیکنکس کے بانی ویرا پرساد ریڈی نے کہا کہ کورونا ویکسین کیلئے دوڑ دھوپ سے مزید جانوں کا نقصان ہوگا ۔ ہندوستان میں 1.3 بلین آبادی کے اعتبار سے کم از کم 3 بلین ویکسین کی ضرورت پڑیگی ۔ ہر مریض کو ویکسین کے دو ٹیکے دیئے جانے کا امکان ہے ، ان میں سے 15 فیصد ٹیکے ضائع ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی صلاحیت اور افادیت کے بارے میں مختلف گوشوں سے شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ عوام کے ذہنوں میں جو سوالات ہیں، ان میں ویکسین کی اہلیت ، قیمت اور اس کے اثرات شامل ہیں۔ دنیا بھر میں 4 تا 5 کمپنیوں کی جانب سے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے۔ ورا پرساد ریڈی نے یہ چونکا دینے والا بیان دیا کہ ایک سال کی مدت میں ویکسین کی تیاری کیلئے دوڑ دھوپ سے کورونا سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ کسی ویکسین کی تیاری کیلئے اسے مختلف مراحل میں کلینیکل ٹرائلس سے گزرنا و ریگولیٹری اتھاریٹی کی منظوری ضروری ہے۔ طبی جانچ کے جو نتائج ہوں گے، اسے سائنٹفک جنرلس میں شائع کرنا ہوگا تاکہ ماہرین کی رائے حاصل کی جاسکے۔ کووڈ ویکسین کی تیاری میںایسا طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں ویکسین کے محفوظ ہونے پر شبہات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں یہ پہلا موقع جب کسی ویکسین کی تیاری اتنی کم مدت میں کی جارہی ہے ۔ سوائن فلو کی ویکسین کی تیاری میں 22 سال لگے جبکہ ایبولا ویکسین ساڑھے پانچ سال میں تیار ہوئی ، ٹی بی ویکسین 13 سال میں تیار کی گئی۔ گلوبل سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ورا پرساد ریڈی نے کہا کہ کسی ویکسین کا جانوروں پر تجربہ کم از کم 6 ماہ کیا جاتا ہے لیکن کورونا ویکسین کیلئے صرف ایک ماہ کا تجربہ کیا گیا جس سے ویکسین کی دیرپا برقراری اور اثرات پر اندیشے ہیں ۔ ویکسین کی تیاری میں جلد بازی عوام کیلئے نقصان دہ ہوگی۔ انہوں نے ویکسین کی تیاری کے بعد مساوی تقسیم پر بھی کئی سوال اٹھائے۔ ٹیکہ اندازی کے بارے میں ابھی تک کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں ویکسین کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کا اندیشہ رہے گا۔