کورونا ویکسین کے ری ایکشن سے خانگی ہاسپٹلس کا اسٹاف خوفزدہ

,

   

شہر کے 4 دواخانوں کے عملہ کا ٹیکہ لینے سے انکار، ہیلت ورکرس میں شعور بیداری مہم
حیدرآباد۔ کورونا ویکسین کے ری ایکشن کے بارے میں ڈاکٹرس اور ہیلت کیر ورکرس میں بڑھتے اندیشوں کا اثر ٹیکہ اندازی پر پڑا ہے۔ حکومت نے دوسرے مرحلہ میں خانگی ہیلت ورکرس کو ٹیکہ اندازی کا فیصلہ کیا تھا لیکن ریاست کے کئی مقامات پر خانگی ڈاکٹرس و ملازمین نے خود کو اس سے دور کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شہر کے 4 خانگی ہاسپٹلس میں محکمہ صحت کے عہدیداروں کو ٹیکہ اندازی کی اجازت نہیں دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے خانگی ہاسپٹلس حکام یہ کہتے ہوئے ٹیکہ لینے سے انکار کررہے ہیں کہ ڈاکٹرس اور ہیلت ورکرس اس کیلئے تیار نہیں۔ چاروں دواخانوں میں 100 سے زائد ہیلت کیر اسٹاف ہے لیکن وہ ویکسین کے مضر اثرات پر خوف کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ۔ حکومت کے وہ عہدیدار جنہیں ٹیکہ اندازی کی ذمہ داری دی گئی انہیں مایوس لوٹنا پڑا۔ کورونا ٹیکہ اندازی اگرچہ رضاکارانہ مہم ہے لیکن محکمہ صحت نے ہیلت ورکرس اور فرنٹ لائن وارئیرس کو احتیاطی طور پر ویکسین لینے کا مشورہ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خانگی ہاسپٹلس اسٹاف کے انکار کے بعد اس معاملہ کو اعلیٰ عہدیداروں سے رجوع کردیا گیا۔ محکمہ صحت کے عہدیدار خانگی دواخانوں میں اسٹاف کو ٹیکہ اندازی کے حق میں کونسلنگ کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کونسلنگ کا ایک مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر جی سرینواس راؤ ڈائرکٹر پبلک ہیلت نے امید ظاہر کی کہ کونسلنگ کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور ہیلت ورکرس ٹیکہ لینے تیار ہوجائیں گے۔ محکمہ صحت نے 36000 خانگی ہیلت ورکرس کو 450 مراکز پر ٹیکہ کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ اس کے تحت 1.55 لاکھ ہیلت ورکرس کا احاطہ کیا جائیگا جن کا تعلق خانگی ہاسپٹلس سے ہے۔ کئی سرکاری دواخانوں میں ٹیکہ لینے کے بعد ڈاکٹرس اور ہیلت ورکرس کی طبیعت بگڑنے کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ویکسین کیلئے ویب سائیٹ پر نام درج کرانے والے افراد 65 فیصد ہیں۔ تلنگانہ میں 3.1 لاکھ ہیلت ورکرس کو ٹیکہ اندازی کا نشانہ مقرر کیا گیا۔ بتایا گیا کہ سرکاری اور خانگی شعبہ میں 130607 ہیلت کیر ورکرس کو ٹیکہ دیا گیا۔ سرکاری شعبہ میں 1.6 لاکھ ہیلت ورکرس کو ٹیکہ اندازی کا منصوبہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خانگی شعبہ میں پہلے دن صرف 20359 ہیلت ورکرس نے ٹیکہ اندازی میں حصہ لیا۔