کورونا ٹسٹنگ مراکز پر وی آئی پی کلچر کے نتیجہ میں عوام کو مشکلات

   

سیاسی قائدین کیلئے 10 فیصد کٹس محفوظ ، گھنٹوں قطار میں انتظار کرنے والے عوام کو مایوسی، کٹس کی تعداد میں اضافہ کی ضرورت
حیدرآباد: ریاست میں کورونا کیسیس میں تیزی سے اضافہ کے سبب عوام میں ٹسٹ اور علاج سے متعلق شعور میں اضافہ ہوا ہے ۔ سرکاری دواخانوں اور پرائمری ہیلت سنٹرس پر کورونا ٹسٹ کے لئے روزانہ طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد کے بیشتر پرائمری ہیلت سنٹرس میں وی آئی پی کلچر کے نتیجہ میں عام افراد کو دشواریوں کا سامنا ہے ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں وی آئی پی کلچر نے عام آدمی کی دشواریوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ ایسے مقامات جہاں طبی سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہئے ، وہاں پر سیاسی قائدین کی مداخلت کے نتیجہ میں عوام کو مایوسی ہورہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرائمری ہیلت سنٹرس میں مقامی سیاسی قائدین ان کے لئے 10 تا 15 فیصد کٹس محفوظ کرنے کے لئے عہدیداروں پر دباؤ بنا رہے ہیں۔ ہر پرائمری ہیلت سنٹر کو روزانہ 100 تا 200 ٹسٹنگ کٹس فراہم کئے جاتے ہیں اور یہ عوام کی تعداد کے اعتبار سے ناکافی ہیں۔ صبح کی ابتدائی ساعتوں سے عوام کی کثیر تعداد ٹسٹ کے لئے قطار میں دکھائی دیتی ہے ۔ ہر پرائمری ہیلت سنٹر پر تقریباً 500 افراد ٹسٹ کے لئے رجوع ہورہے ہیں لیکن ناکافی کٹس کے سبب عوام کو ٹسٹ کے بغیر مایوسی کے عالم میں واپس ہونا پڑ رہا ہے۔ ہیلت سنٹرس کے حکام نے حکومت سے نمائندگی کی ہے کہ ٹسٹنگ کٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ روزانہ 10 تا 15 فیصد کٹس کو اہم سیاسی قائدین اور عوامی نمائندوں کی جانب سے محفوظ کرائے جانے کے نتیجہ میں نہ صرف حکام بلکہ عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے والے افراد کو ٹسٹ کے بجائے وی آئی پی سفارش سے آنے والے افراد کا ٹسٹ کیاجارہا ہے ۔ شہر کے ہر مرکز پر روزانہ کم از کم 10 تا 20 افراد ایسے ہوتے ہیں جو وی آئی پی سفارش کے نتیجہ میں قطار کے بغیر راست پہنچ کر اپنا ٹسٹ کروا رہے ہیں اور طبی عملہ کسی بھی کارروائی سے قاصر ہیں۔ عوام نے شکایت کی ہے کہ وہ روزانہ صبح 6 بجے سے قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں لیکن وی آئی پی کے سفارشی افراد درمیان سے آکر ان کی حق تلفی کر رہے ہیں ۔ کٹس ختم ہونے کا بہانہ بناکر عوام کو ٹسٹ کے بغیر واپس کیا جارہا ہے ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ عوامی نمائندوں اور سیاسی قائدین کے دباؤ کے آگے مجبور ہیں کیونکہ اعلیٰ عہدیداروں کے ذریعہ سفارش کرائی جاتی ہے ۔ پرائمری ہیلت سنٹر میں اسٹاف صبح 7 بجے سے شام تک خدمات انجام دے رہا ہے لیکن وہ عام آدمی کو ٹسٹوں کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔ ہر پرائمری ہیلت سنٹرس کے تحت 50 ہزار آبادی کا احاطہ کیا جائے گا۔ عوام کا کہنا ہے کہ علاج سے متعلق معاملہ میں وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہونا چاہئے کیونکہ ٹسٹ کے بغیر واپسی کی صورت میں اگر عوام میں کورونا کی علامات موجود رہیں تو وہ دوسروں میں وائرس پھیلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ لہذا ہر پرائمری ہیلت سنٹر میں کٹس کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کیا جائے ۔