کورونا ٹسٹ لیبارٹریز کی من مانی، آر ٹی پی سی آر معائنہ کیلئے بھاری رقم کی وصولی ، حکومت کی ہدایت نظر انداز

   

حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کوروناو ائرس کی جانچ کرنے والے خانگی لیباریٹریز کی جانب سے من مانی قیمتوں کی وصولی کی شکایات کے باوجود محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی ناقابل فہم بنتی جا رہی ہے کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے ڈسمبر 2020 میں جاری کئے گئے جی او کی صریح خلاف ورزی کے باوجود حکومت کی جانب سے خانگی لیباریٹریز میں من مانی قیمتوں کی وصولی پر خاموشی افسوسناک ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے کئی لیابس کی جانب سے آرٹی پی سی آر معائنہ کیلئے 1000 سے1500 روپئے تک وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات میں یہ ہدایا ت جاری کی گئی تھیں کہ کورونا وائرس کے اس معائنہ کیلئے 500 روپئے سے زیادہ وصول نہ کئے جائیں لیکن اس کے باوجود خانگی لیابس کی جانب سے من مانی قیمتوں کی وصولی کے ذریعہ عوام کو لوٹا جا رہا ہے ۔ کورونا وائرس کے معائنہ کیلئے حکومت کی جانب سے آرٹی پی سی آر معائنوں میں اضافہ نہ کئے جانے کے سبب بیشتر شہریوں کو کورونا وائرس کے معائنہ کیلئے خانگی لیابس کا رخ کرنا پڑرہا ہے اور اس معائنہ کیلئے لیابس کی جانب سے وصول کی جانے والی قیمت ادا کرنے کیلئے وہ مجبور ہیں۔ شہر حیدرآباد اور سکندرآباد کے کئی علاقو ںمیں خانگی لیابس کی جانب سے گھر سے نمونے حاصل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان نمونوں کے حصول کیلئے بھی اضافی رقومات وصول کی جا رہی ہیں ۔ گھروں سے نمونوں کے حصول کے لئے اضافی رقومات وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن من مانی وصولی کی شکایات کے باجود خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔ خانگی لیابس کے ذمہ دارو ں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے معائنوں کے لئے پہنچنے والوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سبب رپورٹ میں تاخیر ہونے لگی ہے تاہم اضافی رقومات کی وصولی کے سلسلہ میں استفسار پر کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے جو منظورہ فیس ہے وہی وصول کی جا رہی ہے۔حکومت تلنگانہ کے آرٹی پی سی آر معائنہ کی فیس کو باقاعدہ بنانے کیلئے ڈسمبر 2020میں جی او 539 جاری کرتے ہوئے 500 روپئے وصول کرنے کی اجازت دی تھی لیکن جیسے ہی دوسری لہر میں شدت پیدا ہوئی خانگی لیابس کی جانب سے 1000تا 1500 روپئے وصول کئے جانے لگے اور حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر کئے جانے والے معائنوں کے دوران ریاپڈ اینٹی جین میں کورونا کی توثیق کی صور ت میں آرٹی پی سی آر نہ کئے جانے کے سبب مریضوں کو خانگی دواخانوں سے رجوع ہونا پڑرہا ہے۔