کورونا پر قابو پانے ، لاک ڈاؤن کے سوا کوئی راستہ نہیں

   

موجودہ صورتحال کو نظر انداز کرنے پر حالات بے قابو ہونے کا خدشہ ، ذمہ داروں اور سائنسدانوں کا تاثر
حیدرآباد۔ ملک میںکورونا وائر س کے بڑھتے معاملات کو روکنے اور ان پر قابو پانے کے لئے لاک ڈاؤن سواء اور کوئی راستہ نہیں ہے اور حکومت کو چند ہفتوں کے لئے فوری اثر کے ساتھ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرنا چاہئے۔ کورونا وائرس ٹاسک فورس کے ذمہ داروں کے علاوہ آئی سی ایم آرکے ذمہ داروں‘ سائنسدانوں اور آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گلـیریا نے ملک میں کورونا وائرس کے سبب بڑھ رہی اموات کو روکنے اور متاثرین کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہندستانی شہریوں کی جان بچانے اور انہیں متاثرہونے سے محفوظ رکھنے کے علاوہ گھروں کی حد تک محدود رکھتے ہوئے کورونا وائرس کے مریضوں کی چین کو توڑنے کیلئے لازمی ہے کہ مرکزی حکومت قومی سطح پر لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں احکامات جاری کرے اور سخت لاک ڈاؤن کے ذریعہ ہی کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ماہرین کی جانب سے کی جانے والی سفارشات میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے معاملوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے سخت لاک ڈاؤن اگر چند ہفتوں کے لئے کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حالات کو قابو میں کیا جاسکتا ہے اور اگر موجودہ حالات کو نظر انداز کیاجاتا ہے تو ایسی صورت میں حالات قابو میں نہیں آسکیں گے اور بڑی تعداد میں اموات ہونے لگ جائیں گی جنہیں روکا جانا ممکن نہیں ہوگا۔ ملک میں طبی سہولتوں اور ڈاکٹرس کے علاوہ دواخانوں اور بستروں کی تعداد اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی سائنسدانوں اور ڈاکٹرس کے ساتھ کورونا وائرس ٹاسک فورس کی جانب سے بھی ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگائے جانے کی سفارش کردی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ملک میں موجود طبی سہولتوں سے زیادہ مریضوں کی تعداد کے سبب حالات ابتر ہوچکے ہیں اور اس کے باوجود اب بھی بعض علاقوں میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن قومی سطح پر حالات کو بہتر بنانے کے علاوہ شہریوں کو تحفظ کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ متاثرین جو نادانستہ طور پر دوسروں کو متاثر کر رہے ہیں انہیں گھروں میں بند کیا جاسکے اور جب و ہ گھر کی حد تک رہ جاتے ہیں تو ایسی صورت میں حالات پر قابو پانے میں دشواری نہیں ہوگی۔