کورونا پر قابو پانے ٹیکہ اندازی میں تیزی ضروری

   

ٹیکہ نہ لگوانے والوں کی مختلف سہولتوں سے محرومی کا اندیشہ

حیدرآباد۔یکم۔اگسٹ(سیاست نیوز) کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ریاست تلنگانہ میں ٹیکہ اندازی کو تیز کرنے کے اقدامات کے طور پر کئی اہم بنیادی سہولتوں کو ٹیکہ سے مربوط کیا جاسکتا ہے اور جو لوگ ٹیکہ اندازی کا حصہ بننے سے انکار کر رہے ہیں اور خود کو ٹیکہ اندازی سے دور رکھے ہوئے ہیں انہیں مستقبل میں کئی ایک سہولتوں سے محروم ہونا پڑسکتا ہے اور جلد ہی ریاست میں تفریحی مقامات‘ ہوٹلوں‘ بینک ‘ تھیٹرس‘ پارک‘ کے علاوہ مالس میں ٹیکہ حاصل نہ کرنے والوں کو داخلہ کی اجازت پر روک لگایا جاسکتا ہے اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کو سفارشات روانہ کی جاچکی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس پر جلد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا کے کئی ممالک میں ٹیکہ حاصل نہ کرنے والوں کو شاپنگ مالس‘ تھیٹرس اور تفریحی مقامات کے علاوہ ہوٹلوں اور ریستوراں میں داخلہ کی اجازت حاصل نہیں ہے اور پاکستان میں حکومت کی جانب سے ٹیکہ حاصل نہ کرنے والوں کے موبائیل سم کو منقطع کیا جانے لگا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکہ اندازی کو تیز کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے ٹیکہ اندازی کی رفتار کو تیز کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جس کے تحت کہا جا رہاہے کہ جلد ہی ایسے مقامات پر جہاں عوام کی بڑی تعداد ہوتی ہے ان مقامات میں ٹیکہ حاصل نہ کرنے والوں کو داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔محکمہ صحت کے عہدیداروںکے مطابق ا س سلسلہ میں ریاستی حکومت کو سفارشات روانہ کی جاچکی ہیں اور ان سفارشات کو منظوری کے ساتھ ٹیکہ حاصل نہ کرنے والوں پر تحدیدات عائد کردی جائیں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں کورونا وائرس کے ٹیکہ حاصل کرنے سے گریز کرنے والوں کو بینک اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے کلینکس اور محلہ جات میں موجود ڈاکٹرس کو بھی ٹیکہ اندازی مہم کا حصہ بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے کیونکہ بیشتر ڈاکٹرس کا کہناہے کہ جب فیملی ڈاکٹرس اپنے مریضو ںکو مشورہ دیتے ہیں تو ایسی صورت میں مریض ٹیکہ اندازی کے لئے فوری راضی ہوجاتے ہیں ۔ریاست میں ٹیکہ اندازی مہم کو تیز کرنے کے علاوہ ٹیکہ حاصل کرنے کی سہولتو ںمیں مزید اضافہ کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے تاکہ تیسری لہر کی صورت میں متاثرین کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی جاسکے۔