کورونا کا اثر : دوکانات کے ملازمین کی کٹوتی کا عمل شروع

   

بڑی کمپنیوں کے ساتھ چھوٹے تاجرین بھی مالی مسائل کا شکار
حیدرآباد۔2جون(سیاست نیوز) ملک کے موجودہ حالات میں معاشی ابتری کا شکار بڑی کمپنیوں کے ساتھ اب چھوٹے تاجرین بھی ہونے لگے ہیں اور شہر حیدرآباد کے کئی تاجرین نے اپنی دکانات پر کام کرنے والے ملازمین میں کٹوتی کا عمل شروع کردیا ہے جس کے سبب شہر میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کا خدشہ ہونے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد کے تجارتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں غیر منظم شعبہ کے ملازمین ماہ جون کے آغاز کے ساتھ اپنی ملازمتوں سے محروم ہوچکے ہیں اور اب ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ سرکردہ شورومس کے علاوہ چھوٹے تاجرین جہاں 4تا6 ملازمین ہوا کرتے تھے ان تاجرین نے بھی اپنے عملہ کی تعداد کو نصف تک گھٹانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے نمٹنے کیلئے تجارتی برادری اپنے طور پر کوششوں کا آغاز کرچکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ ماہ تک تجارت میں فروغ نہ ہونے کی صورت میں مزید ملازمین کو برطرف کیا جاسکتا ہے۔ غیرمنظم شعبہ میں خدمات انجام دینے والے کئی سیلز مین اور چوکیدار کے علاوہ دیگر خدمات پر مامور افراد کے روزگار ختم ہونے لگے ہیں اور ان کی مدد کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی منصوبہ بندی نہ کئے جانے کے سبب صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تجارتی ادارو ںمیں کام کرنے والے ملازمین کو مالکین کی جانب سے پہلے ماہ کی تنخواہ ادا کی گئی لیکن دوسرے ماہ کٹوتی کے ساتھ تنخواہ ادا کی گئی لیکن اب جبکہ ماہ جون شروع ہوچکا ہے تو بیشتر تجارتی ادارو ںکے مالکین نے اپنے ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے ۔پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر میں موجود کرڑے‘ جوتے اور دیگر تجارتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی برطرفی سے شہر حیدرآباد میں معاشی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ شہرکے تجارتی ادارو ںمیں برطرفی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے ہزاروں نوجوانوں کے روزگار ختم ہوجائیں گے جو کہ بے روزگار ہونے والے نوجوانوں کے خاندانوں میں معاشی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔لاک ڈاؤن کے سبب خسارے کا شکار تاجرین کی جانب سے کئے جانے والے ان اقدامات کے متعلق کہا جا رہاہے کہ وہ خودجب خسارے میں ہیں اور کاروبار کے حالات ویسے نہیں ہیں جیسے پہلے ہوا کرتے تھے تو کس طرح سے ان ملازمین کی تنخواہ ادا کرسکیں گے اسی لئے وہ اپنے ملازمین کو برطرف کرنے پر مجبور ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے فوری ملازمت سے محروم ہونے والے ان نوجوانوں کیلئے کسی منصوبہ کا اعلان نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صور ت میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کے سبب نفسیاتی امراض میں بھی اضافہ کا خدشہ ہے اسی لئے فوری طو رپر اس جانب توجہ مبذول کی جانی چاہئے تاکہ بے روزگارو ںکی شرح میں ہونے والے اضافہ پر قابو پانے کے علاوہ ان کی گذر بسر کیلئے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔