حیدرآباد۔ ہندو رسم ورواج کے مطابق شادی کے لئے دلہا اور دلہن ایک دوسرے کے بازو بیٹھتے ہیں اور ان کی موجودگی میں پنڈت جس کوپروہت بھی کہاجاتا ہے شادی کے منتر پڑھتے ہوئے ان دونوں کو اٹوٹ بنڈھن میں باندھتا ہے تاہم کوویڈ کی صورتحال نے تمام طریقہ کار تبدیل کردیئے اور نئے نئے طریقوں پر عمل کیاجارہا ہے ۔ایسا ہی ایک انوکھا واقعہ تلنگانہ میں پیش آیا جہاں پروہت نے کار میں بیٹھ کر شادی کے منتر پڑھے ۔یہ واقعہ ریاست کے سدی پیٹ ضلع کے کوہیڑا میں پیش آیا جہاں ایک شادی مقرر تھی۔اس کے لئے ایک پروہت کی خدمات حاصل کی گئیں تاہم کورونا کے خوف سے کافی احتیاط اور چوکسی اختیار کرتے ہوئے اس پروہت نے شادی خانہ میں شادی کی رسوم کی ادائیگی کے لئے منتر پڑھنے کے بجائے فنکشن ہال کے بڑے روم جہاں شادی ہورہی تھی کے باہر ٹہرائی گئی کار میں ہی بیٹھنے کو ترجیح دی اور اس نے کار میں مائیک کا استعمال کرتے ہوئے منتر پڑھے ۔اس مائک کے اسپیکرس دلہا اور دلہن کے منڈپ کے قریب لگائے گئے تھے ۔ اب تک آن لائن ویڈیو کال کے ذریعہ شادی کی رسوم کی ادائیگی اور پنڈت کے منتر پڑھنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں ۔