حیدرآباد۔ 26 جنوری (سیاست نیوز) ریاست میں کورونا کی تیسری لہر اور اومی کرون کے کیسیس میں اضافہ کے باعث عوام چوکسی اختیار کررہے ہیں اور تمام احتیاطی اقدامات پر عمل کیا جارہا ہے۔ صرف ضروریات کیلئے گھر سے باہر نکل رہے ہیں جس سے شہر کی سڑکوں پر ٹریفک بہت کم ہوگئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ عام دنوں کے بہ نسبت 30 فیصد ٹریفک کم ہوگئی ہے۔ انٹلی جنس ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے ذریعہ اس کا پتہ چلا ہے۔ تعلیمی اداروں کو تعطیلات ہیں جبکہ چند خانگی کمپنیوں نے عملہ کو ورک فرم ہوم کی ہدایت دی ہے۔ ماہرین کی جانب سے کورونا کے اثر میں شدت نہ ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ تاہم عوام از خود تحدیدات عائد کر رہے ہیں۔ کورونا وباء سے محفوظ رہنے کیلئے زیادہ تر لوگ گھروں میں رہنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ کووڈ پروٹوکول پر سختی سے عمل کیلئے حکومت کوشاں ہے۔ ن
حکومتعوام میں شعور بیدار کیا جارہا ہے۔ پولیس کی جانب سے حیدرآباد میں روزانہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت کا آئی ٹی ایم ایس کے ذریعہ جائزہ لیا جاتا ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ کن علاقوں میں ٹریفک زیادہ ہے۔ حیدرآباد کے مختلف علاقوں نلگنڈہ کراس روڈ، عابڈس، رویندرا بھارتی، تلگو تلی چوراہا، پیاٹنی، سی ٹی او، رسول پورہ، جوبلی ہلز چک پوسٹ، کے بی آر پارک، ساگر سوسائٹی جنکشنس پر روزانہ 4 تا 7 لاکھ گاڑیوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔ اسی طرح خیرت آباد چوراہے پر روزانہ 4 تا 6 لاکھ گاڑیوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔ اس طرح دوسرے علاقوں کی سڑکوں پر بھی گاڑیوں کی آمد ورفت کو نوٹ کیا جاتا ہے۔ حالیہ عرصہ میں شہر کے اہم شاہراہوں پر ٹریفک میں کمی کو محسوس کیا گیا جس کی اہم وجہ کورونا اور اومی کرون کیسیس میں اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ تعلیمی اداروں کو بھی تعطیلات ایک وجہ ہے۔ ن