کورونا کا منفی مریض پازیٹیو مریضوں کے ساتھ، گاندھی ہاسپٹل کے حکام کی لاپرواہی

   

نظام آباد کے نوجوان کے ساتھ کھلواڑ، حکومت اور عہدیداروں سے توجہ دینے رشتہ داروں کی اپیل
حیدرآباد۔ 13 اپریل (سیاست نیوز) کورونا کے نام پر گاندھی ہاسپٹل میں مشتبہ مریضوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ ہاسپٹل انتظامیہ کے رویہ کے بارے میں اگرچہ کئی شکایات مل رہی ہیں، لیکن ایک تازہ معاملے میں ہاسپٹل کے حکام نے کورونا ٹسٹ میں منفی نتیجے کے باوجود نظام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو پازیٹیو مریضوں کے ساتھ ایک ہی وارڈ میں منتقل کردیا ہے۔ 37 سالہ شیخ محمد مصعب کو نظام آباد کے 15 افراد کے ساتھ گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا۔ تبلیغی اجتماع نئی دہلی میں شرکت سے واپس ہونے والے ان افراد کو ابتدائی معائنے کے بعد گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں تقریباً 8 دن تک کورنٹائن میں رکھا گیا جس کے بعد ان تمام کا نتیجہ منفی رہا۔ دو دن بعد 14 افراد کو نظام آباد واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن شیخ محمد مصعب کو یہ کہہ کر روک لیا گیا کہ ان کی فائل گم ہوچکی ہے۔ جیسے ہی فائل مل جائے گی انہیں چھٹی دے دی جائے گی۔ یہ نوجوان ہاسپٹل کے رحم و کرم پر ہوگیا اور اسے پانچویں منزل پر مشتبہ مریضوں کے نیفرالوجی وارڈ میں رکھا گیا۔ کل ڈاکٹرس نے انہیں منفی رپورٹ کی اطلاع دی اور رپورٹ کی نقل حوالے کردی۔ لیکن واپسی کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کل رات اچانک محمد مصعب کو چھٹویں منزل پر موجود کورونا وائرس کے مریضوں کے وارڈ میں منتقل کردیا گیا اور کہا گیا کہ 10 دن تک اسی وارڈ میں رہنا ہے اور 10 دن بعد دوبارہ ٹسٹ کیا جائے گا۔ نوجوان کے رشتہ داروں کی تشویش میں اضافہ ہوگیا اور ان کا کہنا ہے کہ کورنٹائن میں رکھے جانے پر اعتراض نہیں لیکن مریضوں کے ساتھ وارڈ میں رکھنا باعث تشویش ہے۔ عین ممکن ہے کہ نوجوان ساتھی مریضوں کے سبب دوبارہ وائرس کا شکار ہوجائے۔ اس سلسلہ میں وزیر صحت اور دیگر اعلی حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس جانب فوری توجہ دیں اور اس نوجوان کو نظام آباد واپس بھیج دیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل میں لائے جانے والے مشتبہ مریضوں کے ساتھ ڈاکٹرس اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ خاص طور پر تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ جانبداری کا سلوک ہے۔