کورونا کیسوں میں اضافہ،عوامی سروے لاک ڈاؤن کے حق میں

   

چیف منسٹرس سے وزیر اعظم کی مشاورت پر عوام کی نظریں، تحدیدات میں سختی کیلئے ماہرین کا مشورہ
حیدرآباد۔/16 جون، ( سیاست نیوز) ملک میں کورونا وائرس کے واقعات میں تیزی سے اضافہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ریاستوں کے چیف منسٹرس سے مشاورت کے پس منظر میں ملک میں پھر ایک بار لاک ڈاؤن سے متعلق قیاس آرائیوں میں تیزی پیدا ہوچکی ہے۔ نئی دہلی اور گجرات کے چیف منسٹرس نے ان کی ریاستوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن کے امکانات کو مسترد کردیا تاہم ٹاملناڈو حکومت کی جانب سے چینائی اور دیگر اضلاع میں 19 تا30 جون مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد عوام کے درمیان اندیشے بڑھتے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف ماہرین نے مرکزی حکومت سے ملک میں دوبارہ لاک ڈاؤن کی سفارش کی ہے۔ اسی دوران سوشیل میڈیا پر ایک سماجی تنظیم کی جانب سے ملک میں دوبارہ لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں آن لائن سروے کا اہتمام کیا گیا جس میں 74 فیصد عوام نے دوبارہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کی تائید کی جبکہ 22 فیصد نے مخالفت کی۔ ملک کے 221 اضلاع سے تعلق رکھنے والے 46000 افراد نے آن لائن سروے میں حصہ لیا۔ سروے میں ملک میں کورونا کے کیسس میں روز افزوں اضافہ کے پس منظر میں دوبارہ لاک ڈاؤن سے متعلق عوام کی رائے حاصل کی گئی تھی۔ اسی دوران تلنگانہ میں بھی وباء سے متعلق ماہرین نے آئندہ دو ماہ میں کورونا کے کیسس میں اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں رعایتوں کے بعد سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا لہذا حکومت کو دوبارہ تحدیدات عائد کرنے پر غور کرنا چاہیئے۔ تلنگانہ میں عوامی نمائندوں اور سرکاری ملازمین میں کورونا کی علامات منظر عام پر آنے کے بعد سے سیاسی حلقوں اور سرکاری دفاتر میں خوف کا ماحول ہے۔ سیاسی قائدین نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے اسٹاف کی تعداد میں کمی کردی ہے۔ کئی قائدین نے اپنے پرسنل اسٹاف کے کورونا ٹسٹ کا اہتمام کیا ہے۔ بعض عوامی نمائندے ڈرائیورس کے بجائے خود کار ڈرائیو کرتے دیکھے گئے۔ تلنگانہ میں تاحال ٹی آر ایس کے 3 ارکان اسمبلی کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔