کورونا کیس جون یا جولائی میں اپنے عروج کو پہونچ سکتے ہیں

   

احتیاط ہی کورونا کے قہر سے بچنے کا واحد راستہ ‘ ڈائرکٹر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائیسنس کا بیان

نئی دہلی 11 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسیس کے ڈائرکٹر رندیپ گولیریا نے اس خیال کا اظہار کیا کہ جون یا جولائی میں ہندوستان میں کورونا وائرس کے کیسیس اپنے عروج پر پہونچ سکتے ہیں۔ نہوں نے کہا کہ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں کورونا وائرس اپنے عروج پر کب پہونچے گا اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ جو ڈاٹا مل رہا ہے اس کو کس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے ۔ فی الحال قومی اور بین الاقوامی ماہرین کی جانب سے ڈاٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ بیشتر ماہرین کی راے یہی ہے کہ ہندوستان میںجون یا جولائی کووڈ 19 – اپنے عروج پر پہونچے گا ۔ ڈاکٹر گولیریا نے کہا کہ پہلے یہ تجزیہ کیا گیا تھا کہ ماہ مئی میں یہ وائرس اپنے عروج پر پہونچے گا تاہم چونکہ لاک ڈاون میں توسیع کردی گئی ہے اس لئے یہ مسئلہ بھی طوالت اختیار کرگیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک ایاسا عمل ہے جو مختلف عوامل پر منحصر ہے ۔ یہ ایک دیرپا لڑائی ہوسکتی ہے ۔ جب یہ وائرس اپنے عروج کو پار کر لے گا اس کے بعد بھی کورونا کے کیسیس سامنے آسکتے ہیں۔ سفر کرنے اور ایک دوسرے سے ملاقات کرنے سے متعلق عوام کا طرز حیات بھی تبدیل ہوسکتا ہے ۔ ایمس کے ڈائرکٹر نے تاہم کہا کہ اگر کووڈ 19 کے ہاٹ اسپاٹس پر پوری توجہ دیتے ہوئے جارحانہ اقدامات کئے جائیں اور لوگ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو پھر پازیٹیو کیسیس کی رفتار سست ہوسکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ وائرس اپنے عروج پر نہ پہونچ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج کی صورتحال کو دیکھیں اور دیڑھ دو ماہ قبل کی صورتحال کو پیش نظر رکھیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں کیسیس میں اضافہ کی شرح دوسرے ممالک کی طرح بہت زیادہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ کیسیس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ان کے دوگنا ہونے کا وقت اتنا کم نہیں ہے ۔ ڈاکٹر گولیریا نے اس بات پر زور دیا کہ کیسیس میں اضافہ اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ حکام کی جانب سے معائنے زیادہ کئے جا ہرے ہیں ۔ ابتداء میں یومیہ صرف چار تا پانچ ہزار معائنے کئے جا رہے تھے لیکن اب یومیہ 80 تا 90 ہزار معائنے کئے جا رہے ہیں۔ اگر معائنوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تو یہ پازیٹیو کیسیس کی تعداد بھی مزید بڑھے گی تاہم اس کا تناسب زیادہ نہیں ہے ۔ ڈاکٹر گولیریا نے کہا کہ ہندوستان کورونا کے انتہائی قہر سے بچ سکتا ہے اگر ہر کوئی اس میں حصہ داری نبھائے اور اس کے پھیلاو کی چین کو توڑا جاسکتا ہے اگر ہر کوئی اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور سماجی فاصلے برقرار رکھے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لاک ڈاون ختم کیا جائیگا اس وقت شہریوں کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہوگی ۔ اگر ہم سب یہ سمجھیں تو پھر ہندوتان اس کے قہر سے بچ سکتا ہے اور اس کے متاثرین کی تعداد میں کمی آسکتی ہے ۔ لیکن اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو پھر کیسیس میں اضافہ ہوگا اور ہیلت انفرا اسٹرکچر پر دباو بھی بڑھنے لگے گا ۔ عوام کو آئندہ وقتوں میں بھی تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔