حیدرآباد 6 جنوری (سیاست نیوز) 127 دن میں پہلی مرتبہ چہارشنبہ کو تلنگانہ میں ایکٹیو کیسوں کی تعداد 6,000 سے متجاوز ہوگئی۔ جو گزشتہ سال 26 اگسٹ سے سب سے زیادہ ہے۔ جب ایکٹیو کیس لوڈ 6,246 تھا۔ 27 ڈسمبر سے کوویڈ کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ ڈرامائی اضافہ اچھی اور بُری خبر ہوسکتا ہے۔ اگر یہ اومی کرون کے باعث ہو تو مریضوں کے شریک دواخانہ ہونے میں اس قدر اضافہ نہیں ہوگا جیسے کیسوں میں ہوتا ہے لیکن بُری خبر یہ کہ ان میں بعض کیس ڈیلٹا کے ہوسکتے ہیں جس پر علاج میں چیالنجس کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر ایم ایس ایس مکرجی سینئر انٹرونیشنل کارڈیالوجسٹ، میڈی کور ہاسپٹل نے کہاکہ’اب جو بات دیکھی جارہی ہے وہ ہے کیسوں کی بہتات اور اس سے دو ہفتوں بعد مریضوں کے شریک دواخانہ ہونے کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اس کے دو ہفتوں بعد ہلاکتوں میں اضافہ ہوگا۔ لہذا یہ لہر ہلکی نہیں ہوگی‘۔ انھوں نے کہاکہ کیس بڑھنے سے دواخانوں میں شریک مریضوں کا کونسا علاج کیا جائے اس میں مشکل ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر اومی کرون ہو تو آؤٹ پیشنٹ ویزٹس میں اضافہ ہوگا اور تمام دواخانوں میں اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے معاملہ میں انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ اگر اومی کرون کے کئی کیس ہوں تو اس کیلئے مونوکلونل اینٹی باڈی کاکٹیل جیسی تھراپیز مؤثر نہیں ہوں گی جس سے علاج میں چیالنجس پیدا ہوں گے۔