ہاسپٹل بچوں کے علاج کے لیے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ، محکمہ صحت کے احکامات پر عدم عمل آوری
حیدرآباد۔6اگسٹ(سیاست نیوز) کوروناوائرس کی تیسری لہر کے دوران بچوں کے زیادہ تعداد میں متاثر ہونے کے خدشات کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے نیلوفر دواخانہ میں زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات اور اعلانات کئے جانے لگے تھے اور کہا جا رہاتھا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے نیلوفر دواخانہ میں 1500 آکسیجن بستروں کی فراہمی اور تیاری عمل میں لائی گئی تھی لیکن اس سلسلہ میں اگر محکمہ صحت کے عہدیداروں کے احکام اور عمل آوری کا جائزہ لیا جائے تو اب بھی نیلوفر ہاسپٹل تیسری لہر کے دوران بچوںکے متاثر ہونے کی صورت میں حالات سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت کے احکام کے مطابق نیلوفر دواخانہ میں سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال مختلف ہے بلکہ اب تک 250آکسیجن بستر بھی نیلوفر دواخانہ میں تیار نہیں کئے جاسکیں ہیں لیکن 250 بستروں پر مشتمل علحدہ وارڈ تیارکیا گیا ہے جس میں صرف بستر موجود ہیں اور وہ آکسیجن پائپ لائن سے مربوط نہیں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ دواخانہ کے انتظامیہ دعویٰ اور محکمہ صحت کے اعلانات کا جائزہ لیا جائے تو نیلوفر دواخانہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج ابھی ممکن نہیں ہے کیونکہ کورونا وائرس کے متاثرین بچے جو ابتدائی علامات کے ساتھ دواخانوں سے رجوع کئے جاتے ہیں انہیں آکسیجن کی ضرور ت نہیں ہوتی لیکن اگر ان کی حالت بگڑتی ہے تو ایسی صورت میں انہیں آکسیجن کی فراہمی ناگزیر ہوجاتی ہے اسی لئے نیلوفر دواخانہ میں بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ حکومت نے دوسری لہر کے کمزور ہونے کے ساتھ ہی تیسری لہر کے خدشات کے اظہار پر فوری اقدامات اور علاج کیلئے بہترین سہولتوں کی فراہمی کا اعلان کیا تھا اور جب یہ کہا گیا کہ تیسری لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کے خدشات زیادہ ہیں تو ایسی صورت میں نیلوفر دواخانہ میں 1500 آکسیجن بستروں کی تیاری کا اعلان کیا گیا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ حکومت اور محکمہ صحت پہلی اور دوسری لہر کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے نیلوفر دواخانہ میں کئے جانے والے اقدامات کو یقینی بنائے گی اور بچوں کے لئے آکسیجن سہولتوں کے ساتھ کورونا وائرس کے علاج کی بہتر خدمات فراہم کرنے کے اقدامات کرے گی لیکن تاحال ایسے کوئی ثبوت نہیں مل رہے ہیں کہ تیسری لہر کے دوران بچوں کی بڑی تعداد متاثر ہونے لگی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت اورمحکمہ صحت کو چوکنا رہنے کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولتوں کو تیار رکھنے کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ ایسا نہ کرنے پر حالات سنگین نوعیت اختیار کرجانے کا خطرہ ہے۔