٭ آئندہ سال 7 نئے میڈیکل کالجس ‘5 ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کا آغاز
٭ مرکز کے معاشی پسماندہ تحفظات پر عمل آوری، تلنگانہ کابینہ کا اجلاس
حیدرآباد۔یکم ؍ اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ نے ملک میں کورونا کی امکانی تیسری لہر کے پیش نظر محکمہ صحت کو چوکسی کی ہدایت دی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں منعقدہ کابینی اجلاس میں کورونا کی صورتحال، مرکز کی جانب سے معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو تحفظات کی فراہمی، زراعت اور دیگر اُمور کا جائزہ لیا۔کابینہ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ایسے اضلاع جہاں کورونا کے کیسس میں اضافہ درج کیا جارہا ہے ان پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کورونا کی امکانی تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے تمام اضلاع میں کورونا ٹسٹوں میں اضافہ، ٹیکہ اندازی میں تیزی اور دواخانوں میں ادویات اور آکسیجن کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔ عہدیداروں نے ریاست میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال پر رپورٹ پیش کی اور ان اضلاع کی صورتحال سے واقف کرایا جہاں کیسس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ کابینہ نے کورونا سے فوت ہونے والے والدین کے یتیم بچوں کی مکمل نگہداشت کیلئے محکمہ بہبودی خواتین و اطفالکو اقدامات کی ہدایت دی۔ عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ ریاست بھر میں یتیم ہونے والے بچوں کی تعداد اکٹھا کی جائیں اور اس سلسلہ میں تمام ضلع کلکٹرس رپورٹس پیش کریں۔ کابینہ نے ریاست میں یتیم خانوں کی صورتحال اور ان کے مسائل کا جائزہ لینے کیلئے کابینی سب کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی صدرنشین وزیر بہبودی خواتین و اطفال ستیہ وتی راٹھور ہوں گی۔ سب کمیٹی کے ارکان کے طور پر ریاستی وزراء ہریش راؤ، سبیتا اندرا ریڈی، سرینواس گوڑ، سرینواس یادو، کے ایشور، جی کملاکر، اندرا کرن ریڈی، جگدیش ریڈی، دیاکر راؤ اور کے ٹی آر کو مقرر کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں کورونا کی تازہ صورتحال اور ملک کی مختلف ریاستوں میں بڑھتے کیسس کے پیش نظر تلنگانہ کے ہر ضلع میں بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ نے عہدیداروں سے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں پرائمری ہیلت سنٹرس میں بنیادی انفرااسٹرکچر فراہم کیا جائے۔ آکسیجن، ادویات، بستر اور دیگر ضرورتوں کی فراہمی کی ہدایت دی گئی۔ کابینہ نے ریاست میں منظور شدہ نئے 7 میڈیکل کالجس کے آئندہ تعلیمی سال سے آغاز کے اقدامات کرنے عہدیداروں کو ہدایت دی۔ کابینہ نے کہا کہ میڈیکل کالجس کی تعمیر کا کام عاجلانہ طور پر مکمل کیا جائے۔ اس سلسلہ میں محکمہ آر اینڈ بی کو ہدایت دی گئی ہے۔ نئے منظورہ میڈیکل کالجس میں بیڈس اور دیگر انفرااسٹرکچرس کے علاوہ ہاسٹل کی عاجلانہ تعمیر کی ہدایت دی گئی۔ کابینہ نے5 نئے سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام کا جائزہ لیا۔ عہدیداروں نے اب تک کی پیشرفت سے کابینہ کو واقف کرایا۔ ورنگل، چیسٹ ہاسپٹل، ٹمس، ایل بی نگر گڈی انارم، الوال میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ نے پٹن چیرو علاقہ میں مزدوروں اور دیگر افراد کیلئے نئے ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے قیام کی منظوری دی ہے۔ تمام سوپر اسپیشالیٹی دواخانوں کو تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس کا نام دیا جائے گا۔ کابینہ نے کہا کہ عوام کو بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ کابینہ نے کسانوں کو قرض معافی اسکیم پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کورونا وباء کے پیش نظر سرکاری خزانہ پر بوجھ کے نتیجہ میں گزشتہ دو برسوں میں محض 25 ہزار تک کے قرض معاف کئے گئے ہیں۔ 15 اگسٹ سے ماہ کے اختتام تک 50 ہزار روپئے کے زرعی قرض معاف کئے جائیں گے۔ مرکز کی جانب سے معاشی پسماندہ طبقات کیلئے تحفظات کا کابینہ نے جائزہ لیا۔ کابینہ نے قرارداد منظور کرکے ریاست میں تعلیم و روزگار میں معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو تحفظات کیلئے آمدنی کی حد 8 لاکھ روپئے سے کم کی شرط کو منظوری دی ہے۔سالانہ 8 لاکھ روپئے سے کم آمدنی والے پسماندہ طبقات تحفظات کے اہل ہوں گے۔معاشی پسماندہ طبقات کے تحفظات کے تحت ریاستی حکومت کے ذریعہ کئے جانے والے تقررات میں عمر کی حد میں پانچ سال کی رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔