بچوں کیلئے3000 بیڈس، تیسری لہر تلنگانہ میں مہلک ثابت نہیں ہوگی: ماہرین
حیدرآباد۔/15 اگسٹ، ( سیاست نیوز) ریاست میں کورونا کی امکانی تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے حکومت نے مزید 20 ہزار بیڈس کی گنجائش میں اضافہ کے اقدامات کئے ہیں ان میں 3000 بیڈس بچوں کیلئے مختص رہیں گے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ماہرین نے ستمبر یا اس کے بعد امکانی تیسری لہر کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ملک کی بعض ریاستوں میں ابھی سے کیسس کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور حکومتوں نے مختلف تحدیدات کا اعلان کیا ہے۔ تلنگانہ میں اگرچہ کورونا کی صورتحال قابو میں ہے لیکن حکومت نے دوسری لہر کے تجربات کے پیش نظر کسی قسم کی کوتاہی نہ کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔ سرکاری دواخانوں میں فی الوقت بستروں کی تعداد 15339 ہے جن میں 5526 جنرل اور 7670 آکسیجن سے مربوط ہیں جبکہ 2143 بیڈس انٹینسیو کیر یونٹ ( آئی سی یو ) کے ہیں۔ حکومت نے گاندھی اور نیلوفر ہاسپٹلس کو کوویڈ کے ماڈل ہاسپٹلس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امکانی تیسری لہر میں بچوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات پر آکسیجن سے مربوط بچوں کے بیڈس کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ دوسری لہر کے دوران ملک کے دیگر علاقوں کی طرح تلنگانہ میں بھی آکسیجن کی قلت کی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ عہدیداروں کو امید ہے کہ تلنگانہ میں کورونا کی تیسری لہر زیادہ مہلک ثابت نہیں ہوگی کیونکہ ٹیکہ اندازی کی مہم دیگر ریاستوں کے مقابلہ زیادہ بہتر ہے۔ انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ کے مطابق ٹیکہ اندازی سے کورونا کے اثر پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ حال ہی میں حکومت نے تمام خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان کے پاس موجود بستروں کی تعداد کے اعتبار سے آکسیجن جنریشن پلانٹ قائم کریں۔ حکومت نے محکمہ صحت کو ٹیکہ اندازی کے عمل میں تیزی پیدا کرنے اور پہلی خوراک سے محروم افراد کا ترجیحی بنیادوں پر احاطہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
