پہلی لہر میں ضعیف افراد ، دوسری لہر میں نوجوان متاثر ، تیسری لہر بچوں کو متاثر کرے گی ، سائنسدانوں کا دعویٰ
حیدرآباد :۔ کورونا کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ متاثر ہونے والے صرف دو یا تین دن میں آئی سی یو اور وینٹی لیٹر پر پہونچ سکتے ہیں ۔ سائنسدانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ تیسری لہر کب آئے گی اور کتنے دن رہے گی کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا بس اس کا سامنا کرنے کے لیے ہمیں پوری طرح تیار رہنا ہوگا ۔ کورونا کی دوسری لہر نے سارے ملک میں قہر برپا کر رکھا ہے ۔ گذشتہ سال کی پہلی لہر کے بہ نسبت دوسری لہر غضب ڈھا رہی ہے ۔ جدھر دیکھیں اُدھر کورونا اموات کی نعشیں نظر آرہی ہیں۔ ہاسپٹلس میں بیڈس کی قلت پائی جاتی ہے ۔ اگر بیڈس دستیاب ہورہے ہیں تو آکسیجن نہیں مل رہی ہے ۔ جس سے غریب عوام بہت زیادہ پریشان ہیں ۔ ایسے نازک حالت میں سائنسدانوں کی جانب سے مزید بھیانک اطلاعات دی جارہی ہیں ۔ ملک میں کورونا کی تیسری لہر کو یقینی قرار دیا جارہا ہے ۔ یہی نہیں کورونا کی تیسری لہر سے متاثر ہونے والوں کی دو تین دن میں حالت نازک ہونے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں ۔ مرکزی محکمہ صحت نے بھی کورونا کی تیسری لہر کا سامنا کرنے کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ تیسری لہر کب آئے گی اور کب تک برقرار رہے گی ۔ اس کی ٹھوس وضاحت نہیں ہوئی ۔ فی الحال ملک میں کورونا کے کئی ویرینٹس گردش کررہے ہیں ۔ اس میں سب سے زیادہ خطرناک ڈبل میوٹینٹ اس کو سائنسدانوں کی جانب سے B.1.617 کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ صرف ہندوستان میں نظر آرہا ہے ۔ عالمی سطح کا جائزہ لیں تو برطانیہ ، برازیل ، ساوتھ آفریقہ اور امریکہ میں بھی اس وائرس کے ویرینٹس منظر عام پر آئے ہیں ۔ ہندوستان کے مختلف ریاستوں میں مختلف ویرینٹس دیکھائی دئیے ہیں ان میں زیادہ تر موضوع بحث رہنے والا وائرس آندھرا پردیش میں منظر عام پر آیا ہے ۔ یہ عام وائرس سے 15 گنا تیزی سے پھیلتا ہے ۔ مگر یہ صرف چند مقامات تک محدود ہے ۔ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ یہ انسانوں پر کئی اقسام کے ذریعہ حملہ کرتا ہے ۔ اتنے ویرینٹس موجود رہنے کی وجہ سے کورونا کی تیسری لہر کو یقینی کہا جارہا ہے ۔ اب خاص بات یہ ہے کہ کورونا کی پہلی لہر میں انسانوں میں سانس کی دشواریوں کو بڑھانے کے لیے وائرس نے 10 دن کا وقت لیا ہے ۔ دوسری لہر میں 5 تا 7 دن لگے ہیں ۔ تیسری لہر میں 2 تا 3 دن میں ہی یہ وائرس تباہی مچا سکتا ہے اور متاثرین کو آئی سی یو میں پہونچا سکتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال آندھرا پردیش میں موجود ویرینٹ یہی کام کرسکتا ہے ۔ اس وائرس کا شکار والے افراد صرف دو یا تین دن میں آئی سی یو میں شریک ہوں گے اس کے بعد فوت ہوجائیں گے ۔ کورونا کی تحقیقات کرنے والے سائنسدانوں نے اور ایک خاص بات بتائی ہے ۔ کورونا کی پہلی لہر میں ضعیف افراد وائرس کا شکار ہوئے دوسری لہر میں نوجوان زیادہ متاثر ہوئے اگر تیسری لہر آتی ہے تو اس سے بچے زیادہ متاثر ہوں گے ۔ ملک میں 18 سال عمر مکمل کرنے والی 80 فیصد سے زیادہ آبادی ہے ۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ نے جاریہ سال اکٹوبر تک ان کے لیے ویکسین دستیاب رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ کوویگزن ویکسین تیار کرنے والی بھارت بائیو ٹیک کمپنی بھی اسی کام میں مصروف ہے ۔ دنیا میں فائیزر واحد کمپنی ہے جس نے 18 سال سے کم عمر والوں کے لیے ویکسین تیار کیا ہے اور 12 سال عمر سے زیادہ عمر کو دینے والوں کے لیے اور ایک ویکسین تیار کیا ہے ۔۔