حکومتیں ابھی سے چوکسی اختیار کریں، رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کی تجویز
حیدرآباد۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کی تیسری لہر کا کم عمر بچوں پر برا اثر پڑے گا لہذا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ابھی سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئے۔ ریونت ریڈی نے ٹوئٹر پر اپنے پیام میں کہا کہ دنیا بھر کے ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر کم عمر بچوں کو متاثر کرسکتی ہے لہذا حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی چوکسی اختیار کرنی چاہیئے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے حکومت کو ابھی سے طبی سہولتوں اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لہر کے بعد حکومت کی غفلت کے نتیجہ میں دوسری لہر خطرناک اور مہلک ثابت ہوئی ہے۔ آکسیجن اور ادویات کی قلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنادیا ہے۔ اب جبکہ تیسری لہر کا انتباہ دیا جاچکا ہے حکومت کو چاہیئے کہ وہ سرکاری دواخانوں میں انفرااسٹرکچر کی سہولتوں میں اضافہ کرے۔ اس کے علاوہ آکسیجن اور ریمیڈیسیور انجکشن کو باآسانی دستیاب بنائے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست میں ٹیکہ اندازی مہم کی رفتار انتہائی سست ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بھی ٹیکہ اندازی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے ملک کا مستقبل ہوتے ہیں لہذا انہیں تیسری لہر سے بچانے کیلئے حکومتوںکو جنگی خطوط پر اقدامات کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں ڈاکٹرس اور میڈیکل اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور نرسنگ اسٹاف کو کورونا کے مریضوں کے علاج کے سلسلہ میں مناسب تربیت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر نگہداشت کے ذریعہ کئی زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے۔