بچوں کو سنبھالنے کے دوران بڑے افراد بھی متاثر ، حکومت سے علاج کی سہولت ندارد
حیدرآباد۔19جنوری(سیاست نیوز) کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کے خدشات اب ثابت ہونے لگے ہیں اور بچوں کے دواخانوں میں کورونا وائرس کی علامات کے ساتھ بڑی تعداد میں بچوں کو رجوع کیا جانے لگا ہے۔ بچوں میں کورونا وائرس کی صورت میں انہیں سنبھالنے کے دوران گھر کے بڑوں میں بھی کورونا وائرس پھیلنے کے خدشات اور مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کئے جانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں لیکن محکمہ صحت اور حکومت کے ذمہ داروں کی جانب سے مسلسل اس بات کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور کورونا وائرس کا شکار ہونے کی صورت میں بچوں کے لئے نیلوفر دواخانہ میں خصوصی انتظامات کے محض اعلانات کئے گئے لیکن اب جبکہ بڑی تعداد میں بچے متاثر ہونے لگے ہیں تو ایسی صورت میں یہ کہا جا رہاہے کہ ہلکی سی علامات کے سبب بچوں کو صرف بخار‘ نزلہ وغیرہ کی شکایات ہورہی ہیں اور وہ جلد ٹھیک ہونے لگے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو کورونا وائرس کی صورت میں والدین انہیں سرکاری دواخانوں سے رجوع کرنے میں خوف محسوس کرنے لگے ہیں اور وہ خانگی دواخانوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد بالخصوص پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے بچوں کی بڑی تعداد ہے جنہیں نہ صرف علاج کروانے کی ضرورت پڑرہی ہے بلکہ شریک دواخانہ بھی کروانا پڑرہا ہے کیونکہ بچوں کو کورونا وائرس کے بخارکے فوری بعد ان میں کمزوری اورنقاہت پائی جانے لگی ہے اور وہ کمزوری کے سبب نڈھال ہورہے ہیں۔ماہرین امراض اطفال کا کہناہے کہ گذشتہ دو ہفتوںکے دوران 12سال سے کم عمر بچوں کو کورونا وائرس کی علامات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین امراض اطفال کی جانب سے خانگی دواخانوں کے ذمہ دارو ںکو مشورہ دیا جا رہاہے کہ وہ اپنے دواخانوں میں بچوں کے کورونا وائرس کے علاج کیلئے خصوصی انتظامات کو یقینی بنائیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بچوں کے علاج کیلئے انہیں علحدہ گوشہ میں رکھتے ہوئے ان کا مؤثر علاج کیا جاسکے۔حکومت کی جانب سے بچوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس کے معائنہ کے لئے کوئی خصوصی انتظامات نہ کئے جانے کے سبب یہ حقائق سامنے نہیں آرہے ہیں اور سرکاری دواخانوں بالخصوص نیلوفر دواخانہ سے رجوع ہونے والے والدین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور دواخانہ میں کہا جا رہاہے کہ کورونا وائرس کے علاج کیلئے بچوں کو فوری طور پر شریک کرنے کے کوئی احکامات نہیں ہیں بلکہ سانس لینے میں تکلیف کی شکایت پر ہی کورونا وائرس کے مریضوں کو شریک دواخانہ کیا جاسکتا ہے اسی لئے بچوں کو شریک دواخانہ نہیں کیا جا رہاہے۔م