کورونا کی تیسری لہر میں مرنے والے 60 فیصد افراد ٹیکہ لینے والوں کی ہے

   

ہاسپٹلس میں بیڈس کی کوئی قلت نہیں ، تازہ سروے میں انکشاف

حیدرآباد ۔ 22 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کی بہ نسبت تیسری لہر میں شرح اموات کم ہونے کا مختلف رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے۔ دوسری جانب تیسری لہر میں مرنے والے 60 فیصد افراد کا تعلق کورونا کا پہلا یا دوسرا ڈوز ٹیکے لینے والوں کی ہے ۔ میکس ہیلت کیر کی جانب سے کئے گئے سروے میں اس کا علم ہوا ہے ۔ سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے مرنے والوں کی اکثریت کی عمر 70 سال سے زائد کی ہے ۔ جو کورونا سے متاثر ہونے کے ساتھ گردے کے امراض ، قلب کے مسائل ، شوگر اور کینسر جیسے مسائل سے دوچار تھے ۔ میکس ہیلت کیر ہاسپٹل کے انتظامیہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ہاسپٹل میں 82 اموات ہوئی جن میں 60 فیصد افراد کورونا کا پہلا اور دوسرا ڈوز لینے والے تھے ۔ کورونا ٹیکہ لینے کی وجہ سے تیسری لہر میں ہاسپٹل میں شریک ہونے والوں کی تعداد کم ہے ۔ کورونا کی نئی شکل اومی کرون کی شدت اور علامتیں بہت کم ظاہر ہورہی ہیں ۔ میکس ہیلت کیر گروپ کے میڈیکل ڈائرکٹر ڈاکٹر سندیپ بودی راجہ کی قیادت میں کورونا وبا کے آغاز سے 20 جنوری تک اس ادارے نے سروے کیا کورونا کی تیسری لہر میں 23.4 فیصد عوام کو آکسیجن کی مدد سے علاج کرنے کی ضرورت پڑی جبکہ کورونا کی پہلی لہر میں 63 فیصد اور دوسری لہر میں 74 فیصد عوام کو آکسیجن کے ساتھ علاج کی ضرورت پڑنے کا سروے میں پتہ چلا ہے ۔ گذشتہ سال اپریل میں دوسری لہر کے دوران دہلی میں 28 ہزار کیسیس درج ہوئے اور تمام ہاسپٹلس متاثرین سے بھر گئے تھے ۔ آئی سی یو بیڈس کی بھی قلت پیدا ہوگئی تھی تاہم گذشتہ ہفتہ تیسری لہر کے دوران دہلی میں اتنی ہی تعداد میں کیس درج ہوئے ہاسپٹلس سے رجوع ہونے والوں کی تعداد کم رہی اور ہاسپٹلس میں بیڈس کی کوئی قلت پیدا نہیں ہوئی ۔۔ ن