کورونا کی نئی اقسام سے شرح اموات 35% ہونے کا اندیشہ

   

لندن ۔ برطانوی حکومت کے اہم سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں سامنے آنے والی کورونا وائرس کی نئی اقسام سے شرح اموات 35 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ برطانوی ادارے سائنٹیفک ایڈوائزری گروپ فار ایمرجنسیز (ایس اے جی ای) کے مطابق ’حقیقت پسندانہ امکان‘ ہے کہ مستقبل میں سامنے آنے والی کورونا وائرس کی اقسام ایم ای آر ایس جتنی مہلک ہو سکتی ہیں جس کی شرح اموات 35 فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ سے اس کے نئی مہلک شکل اختیار کرنے کا اندیشہ بڑھ رہا ہے۔ دنیا بھر میں تیزی سے ٹیکہ اندازی کی فراہمی قوت مدافعت کو بڑھائے گی جو وائرس کی مختلف اقسام میں شکل بدلنے کی رفتار تیز اور مہلک ہو سکتی ہے۔ ایڈوائزری باڈی نے تنبیہہ کی ہے کہ مستقبل میں سامنے آنے والی نئی شکلیں اگر بیٹا قسم سے پیدا ہونے کے بعد الفا اور ڈیلٹا اقسام سے مل گئیں تو وہ ویکسین کے مقابل مزاحمت پیدا کرسکتی ہیں۔رپورٹ میں جہاں ویکسین کے بعد کورونا کے مریضوں میں وبا کے سنگین اثرات میں کمی کی توقع کی گئی ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’ویکسین مکمل جراثیم کش قوت مدافعت مہیا نہیں کر رہی‘ اس لیے نئی مہلک اقسام کے نتیجے میں شرح اموات بڑھ سکتی ہے۔ ایس اے جی اے نے یہ تنبیہہ بھی کی ہے کہ کورونا وائرس مختلف جانوروں بشمول نیولے نما منکس کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ مختلف ملکوں کی جانب سے اب تک لاکھوں منکس کو وائرس پھیلانے کا ذریعہ بننے کی وجہ سے تلف کیا جا چکا ہے۔ جانوروں (کتوں، بلیوں، چوہوں وغیرہ) کے وائرس سے متاثر ہونے اور انہیں پھیلانے کا ذریعہ بننے کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر گروپ نے تجویز کیا ہے کہ حکومتوں کی سطح پر ان جانوروں کو بڑی تعداد میں تلف کرنے یا ٹیکہ اندازی کا پروگرام ترتیب دینا چاہیے۔