کورونا کی نئی شکل سے کوئی نقصان نہیں: سائنسداں

,

   

موجودہ ویکسین سے ہی کورونا کی نئی لہر سے بچاؤ ممکن، احتیاط ضروری: حکومت

نئی دہلی : برطانیہ سے آنے والے 6 افراد میں کورونا وائرس کی نئی شکل کا پتہ چلنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ وائرس قابل علاج ہے۔ موجودہ ویکسین سے اِس کا علاج ممکن ہے۔ وائرس سے نمٹنے کے لئے معیاری دفاعی نظام یہ ہے کہ عوام ماسک پہننا لازمی کرلیں اور سماجی دوری برقرار رکھیں۔ ہاتھوں کو سنیٹائز کرتے رہنا بھی لازمی ہے۔ سائنسدانوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی نئی لہر سے احتیاطی اقدامات سے بچا جاسکتا ہے۔ سائنسدانوں نے تیقن دیا کہ کورونا کی یہ نئی شکل طبی نوعیت سے زیادہ سنگین نہیں ہے۔ اِس کے لئے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ مرکزی وزارت صحت نے منگل کے دن کہاکہ برطانیہ سے ہندوستان واپس ہونے والے 6 افراد کا ٹسٹ پازیٹیو پایا گیا۔ اِن کے اندر کورونا کی نئی شکل کی علامتیں موجود ہیں۔ یہ اندیشے پھیلتے جارہے ہیں کہ ہندوستان اب تک جس مرض کے خلاف لڑرہا تھا، یہ مرض دن بدن اس کے لئے مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے جبکہ کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں روزانہ کمی آرہی ہے۔ وزارت صحت نے کہاکہ SARS-CoV-2’s برطانیہ سے آنے والا وائرس ہے۔ اِس کا پتہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلت اینڈ نیورو سائنس ہاسپٹل بنگلورو میں ٹسٹ کے ذریعہ چلایا گیا۔ کئی سائنسدانوں نے اِس طرح کی کیفیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ اِس وائرس سے فوت ہونے کی شرح کم ہے۔ حکومت کے پرنسپل سائنٹیفک اڈوائزر پروفیسر کرشنا سوامی وجئے راگھون نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ویکسین کی کارکردگی کے متعلق تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔