نئی دہلی ۔19مئی (سیاست ڈاٹ کام)کووڈ۔ 19 وبا سے بچنے کے لئے لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد کثیر تعداد میں لوگ عوامی ٹرانسپورٹ ذرائع کو چھوڑ کر نجی گاڑیوں کو اپنائیں گے جس سے شہروں میں ٹریفک جام اور آلودگی کا مسئلہ پید اہوسکتا ہے ۔ماحولیات کے میدان میں کام کرنے والے انسٹی ٹیوٹ‘ٹیری’ نے ایک سروے رپورٹ میں کہا ہے کہ میٹرو میں سفر کرنے والے 36فیصدی اور بسوں میں سفر کرنے والے 41فیصدی افراد نے آمدورفت کے دوسرے ذرائع کی طرف رخ کرنے کی بات کہی ہے ۔ان میں بیشتر نجی کار یا موٹر سائیکل کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔جبکہ کچھ لوگ آٹو رکشا یا ٹیکسی میں ہی سفر کرنے پرغور کررہے ہیں۔ممبئی لوکل ٹرینوں میں سفر کرنے والوں نے بھی دوسرے ذرائع اختیار کرنے کی بات کہی ہے ۔میٹرو سے دفتر جانے والوں میں 64 فیصد افراد نے کہا کہ وہ لاک ڈاؤن کے بعد بھی میٹرو میں ہی سفر کریں گے ۔باقی 36فیصدی میں 17فیصد لوگوں نے کہا ہے کہ وہ اب اپنی کا ر سے دفتر جائیں گے ۔چھ فیصدی ٹیکسی کا استعمال کریں گے ۔آٹو رکشا،کمپنی کی گاڑی،موٹر سائیکل یا شیئر والے کیب کے استعمال کی بات تین فیصد شرکاء نے کہی ہے جبکہ دوفیصد کار-پول کااستعمال کرسکتے ہیں۔اسی طرح بس سے اپنے دفتر تک جانے والوں میں 59فیصد نے کہا ہے کہ وہ آئندہ بھی بس کا استعمال کریں گے ۔دس فیصد نجی کار،آٹھ فیصد ٹیکسی،5 ، 5 فیصد نے آٹو رکشا،میٹرو اور سائیکل وتین تین فیصد کار -پول اور کمپنی کی گاڑیوں کو متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔تین فیصد بس مسافروں نے اب پیدل ہی جانا طے کیا ہے ۔ملک کے 51شہروں میں سروے کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے ۔اس میں 72فیصدی شرکائایک کروڑ سے بھی زیادہ آبادی والے مہانگروں سے اور17فیصد 50لاکھ سے ایک کروڑ کی آبادی والے شہروں کے ہیں۔رپورٹ کے مطابق،دہلی -این سی آر میں نقل وحرکت کے ذرائع میں میٹرو کی حصہ داری میں 13فیصد کی کمی درج کی جائے گی اور یہ گھٹ کر 30فیصد سے کم رہ جائے گی۔خاتون مسافروں کے معاملے میں میٹرو کی حصہ داری 16فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے ۔نجی کاروں کی حصہ داری میں 10فیصد کا اضافہ ہوگا۔