کورونا کے بہانے مودی کی ’’یوم آزادی تقریر‘‘ ، معاشی پیاکیج کا بلاتفصیل اعلان

,

   

20 لاکھ کروڑ کے پیاکیج کی تفصیلات وزیر فینانس پیش کریں گی، وزیراعظم نے مہلک وائرس کیخلاف طبی اقدامات کے بجائے چھ سالہ حکمرانی کے نام نہاد کارنامے گنوائے

لاک ڈاؤن میں 18 مئی سے توسیع ہوگی

نئی دہلی ۔ 12 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے عالمی وباء کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے سلسلہ میں 19 مارچ کو جنتا کرفیو (22 مارچ) کا ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کے دوران اعلان کیا تھا۔ تب سے آج منگل 12 مئی تک پانچ کے منجملہ چار مواقع پر مودی نے ٹی وی کے ذریعہ قوم سے برائے راست خطاب کیا اور ایک مرتبہ مرکزی کابینی اجلاس کے بعد ملک گیر لاک ڈاون کے تیسرے مرحلہ (3 مئی تا 17 مئی ) کا اعلان کردیا گیا تھا۔ آج رات 8 بجے وزیراعظم لائیو ٹیلی کاسٹ کے ذریعہ قوم کے روبرو نمودار ہوئے اور معیشت کی بحالی کے لئے بڑے اقدام کے طور پر 20 لاکھ کروڑ روپئے کے پیاکیج کا اعلان کیا جو کلیدی شعبوں کی مدد سے متعلق حکومت کے حالیہ اعلانات کے ساتھ ساتھ ریزرو بینک آف انڈیا کے متعارف کردہ اقدامات سے جڑا ہے ۔ وزیراعظم نے آج کے خطاب میں معاشی پیاکیج کی قدر بتانے کے سواء کوئی دیگر تقسیم نہیں بتائی اور یہ کام وزیر فینانس نرملا سیتارمن پر چھوڑ دیا جو ممکن ہے کل چہارشنبہ کو تفصیلات سے قوم کو آگاہ کرے گی۔ آج کی تقریر کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں مودی نے ہندوستان کو آگے لے جانے اور اپنی چھ سالہ حکمرانی کے اتنے تذکرے کئے کہ یہ ’’یوم آزادی تقریر‘‘ معلوم ہونے لگی۔ انہوں نے معاشی پیاکیج کو ’آتما نربھر بھارت ابھیان‘ (خود مکتفی بھارت کی مہم) کا نام دیا تھا اور کہا کہ وہ اس پیاکیج کے تحت جی ڈی پی کا تقریبا ً 10 فیصد حصہ مشغول کریں گے اور مختلف شعبوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ مائیگرنٹ ورکرس کی مشکلات سے بھی نمٹیں گے ۔ انہوں نے لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلہ کا واضح اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ 18 مئی سے قبل اس کا اعلان کیا جائے گا اور یہ قبل ازیں مرحلوں سے مختلف رہے گا ۔ لاک ڈاون کا تیسرا مرحلہ 17 مئی کو ختم ہوگا۔ وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ ان کا مقصد خود مکتفی بننا اور اس کے لئے معیشت و انفراسٹرکچر کو کلیدی عوامل کے طور پر تسلیم کرنا ہے ۔ انہوں نے آنے والے دنوں میں بڑے پیمانہ پر معاشی اصلاحات کا اشارہ بھی دیا۔ ان سب باتوں اور تقریر کے دوران ایسا لگا کہ کورونا بحران اور اس سے متاثرہ تقریباً 0.75 لاکھ ہندوستانی اور 2000 سے زائد اموات کا تذکرہ کہیں اوجھل ہوگیا ہے۔

مودی دو دو ، تین تین منٹ کچھ اس انداز سے تقریر کرتے رہے جیسے وہ لال قلعہ کی فصیل سے سالانہ خطاب کر رہے ہیں ، جس میں عام طور پر ملک کی سال بھر کی کارگزاری اور آنے والے دنوں کے پروگراموں کی تفصیل پیش کی جاتی ہے ۔ پھر درمیان میں وہ کووڈ۔19 وباء کا تذکرہ کرتے رہے جو 19 مارچ سے قوم کے روبرو ان کی آمد کا بنیادی نکتہ رہا ہے ۔ مودی نے کسی مرحلہ پر فلسفیانہ انداز اختیار کیا تو کبھی موجودہ بحران سے متعلق پی پی ای کٹ اور N-95 ماسک کی ہندوستان میں تیاری پر فخر کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وقت نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہمیں ہماری زندگیوں میں ’دیسی‘ کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہئے ۔ گلوبل برانڈس جو آج دستیاب ہے، وہ بھی کبھی مقامی سمجھے جاتے تھے لیکن جب عوام نے ان کو بڑھاوا دیا تو وہ عالمی برانڈ بن گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے ہر ہندوستانی کو ہمارے دیسی مال کے لئے پر زور مہم چلانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان خود انحصار کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب خود مرکزیت والے سسٹم کی وکالت کرنا نہیں ہوتا۔ ہندوستان کی خود انحصاری میں ساری دنیا کی خوشی ، ان سے تعاون اور امن کے لئے کوشش پنہاں ہوتی ہے ۔ مودی نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے قوم کو بتایا کہ جب کورونا بحران شروع ہوا تب ہندوستان میں کوئی پی پی ای کٹ تیار نہیں ہوا کرتی تھی اور محض چند N-95 ماسک دستیاب تھے، آج دو لاکھ پی پی ای کٹس اور دو لاکھ N-95 ماسک ہندوستان میں روزانہ تیار کئے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے چوتھے مرحلہ کے لاک ڈاؤن کے بارے میں کہا کہ یہ نئے قواعد اور ضوابط کے ساتھ چلے گا اور زور دیا کہ عوام ان کی سنجیدگی سے تعمیل کریں ۔ وزیراعظم نے بتایا کہ سائنسدانوں کے مطابق کورونا کافی طویل عرصہ تک ہماری زندگیوں کا حصہ رہے گا لیکن ہم ہماری زندگیوں کو یونہی کورونا کی جکڑ میں محدود نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستوں کی تجاویز کی بنیاد پر 18 مئی سے قبل قوم کو لاک ڈاون 4.0 سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔ ہم کورونا سے لڑیں گے اور ہم آگے بڑ ھیں گے ۔ تقریر کے ابتداء میں مودی نے کہا کہ ایک وائرس نے تباہی مچا رکھی ہے۔ کروڑہا زندگیاں جوکھم میں ہیں ۔ دنیا زندگیوں کو بچانے کیلئے جنگ کی حالت میں ہے۔ دریں اثناء مرکزی وزارت صحت کے ڈیٹا کے مطابق ملک میں ابھی تک زائد از 70,000 کورونا وائرس کیس درج ہوچکے ہیں اور 2,293 اموات ہوچکی ہیں ۔

کووڈ۔19 سے جلد پیچھا چھوٹنے والا نہیں: ممتا
مزدوروں کو 7,500 روپئے دیں: راہول
چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے منگل کو کہا کہ کووڈ ۔ 19 بحران سے جلد راحت ملنے کا امکان نظر نہیں آتا ہے اور زور دیا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے تین ماہ کا پلان بنانے کی ضرورت ہے ۔ شائد ایسے ہی پلان کے تحت کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے وزیراعظم مودی سے اپیل کی کہ لاکھوں مزدوروں کی ان کے گھروں کو سلامتی سے واپسی یقینی بنائیں اور ان کے کھاتوں میں کم از کم 7,500 روپئے جمع کرائیں ۔ راہول نے چھوٹی اور اوسط صنعت کیلئے اکنامک پیاکیج کے اعلان کی اپیل بھی کی تاکہ ان کی گزر بسر آسان ہوجائے۔ ممتا بنرجی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عوام 25 مارچ کو لاک ڈاون کے نفاذ سے مسلسل مسائل کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ یہ اقدام نافذ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر نے ریاستی عہدیداروں کے ساتھ کولکتہ میں جائزہ اجلاس کے بعد کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کووڈ۔19 بحران سے عنقریب راحت حاصل ہوجائے گی۔ ہمیں اس سلسلہ میں کم از کم تین ماہ کا مختصر میعادی منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے ۔