نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کو پراجکٹ کی منظوری،عالمی سطح پر ستائش
حیدرآباد۔22۔ اپریل (سیاست نیوز) کورونا کے خلاف لڑائی کے سلسلہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی ورنگل کو ایک اہم پراجکٹ حاصل ہوا ہے۔ 19 اہم اداروں پر مشتمل کنسورشیم کی جانب سے یہ پراجکٹ الاٹ کیا گیا تاکہ کورونا کی دوا ایجاد کرنے کیلئے ریسرچرس کی مدد کی جاسکے۔ ناسا، آئی بی ایم ، گوگل کلاؤڈ ، مائیکرو سافٹ اور ایم آئی ٹی کے علاوہ دو نامور یونیورسٹیز اس کنسورشیم میں شامل ہیں۔ دنیا کے نامور سائنسدانوں نے پراجکٹ کا جائزہ لیا اور اسے ڈاکٹر سومیا لپسا رتھ اور ڈاکٹر کشانت کمار کو حوالے کیا گیا۔کورونا وائرس کی دوا ایجاد کرنے کیلئے تلنگانہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے سائنسدانوں نے ریسرچ کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے دوا ایجاد کرنے کے لئے تجربات کا آغاز کیا اور انہیں امید ہے کہ وہ کورونا کے خاتمہ کے لئے ویاکسن کی ایجاد میں کامیاب ہوں گے ۔ تلنگانہ پلاننگ بورڈ کے نائب صدرنشین بی ونود کمار نے آج ورنگل میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کا دورہ کیا اور ڈائرکٹر ایس وی رمنا راؤ اور دیگر پروفیسرس سے بات چیت کی ۔ کورونا وائرس پر عالمی سطح پر کی جارہی ریسرچ کے معاملہ میں جو سائنسدانوں کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، ان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے سائنسدانوں ڈاکٹر سومیا رتھ اور ڈاکٹر کشانت کمار کو شامل کیا گیا ہے ۔ ان سائنسدانوں کی شمولیت نہ صرف انسٹی ٹیوٹ بلکہ تلنگانہ کیلئے باعث فخر ہے، ونود کمار نے انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داروں کو مبارکباد پیش کی۔ ونود کمار نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سائنسداں اپنی سماجی ذمہ داری بخوبی نبھارہے ہیں۔ دنیا بھر کی جن 10 نامور تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کو ریسرچ میں شامل کیا گیا ، ان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی ورنگل کے سائنسدانوں کو موقع دیا جانا باعث مسرت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تلنگانہ کے سائنسدانوں نے اپنی شناخت بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے سائنسدان عالمی سطح کے کئی اداروں میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی کاوشوں کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔