اداروں کی بقاء کے لیے اسکول انتظامیہ فکر مند ، سرپرستوں سے مذاکرات کے لیے آمادہ
حیدرآباد۔ملک میں کورونا وائرس کے حالات اور تعلیمی صورتحال کے علاوہ شہریوں کے معاشی حالات کے سبب اسکول انتظامیہ اب بے بس ہونے لگے ہیں اور وہ اولیائے طلبہ سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کی بنیاد پر فیس کی وصولی کیلئے ہراسانی نہیں کی گئی لیکن اس کے جو نتائج برآمد ہورہے ہیں وہ انتہائی سنگین صورتحال کا موجب بنتے جا رہے ہیں۔شہر حیدرآباد میں اسکول انتظامیہ جو اولیائے طلبہ اور سرپرستوں سے بات چیت کیلئے آمادہ نہیں ہوا کرتے تھے انہیں بھی کورونا وائرس کی وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب پیدا ہونے والے حالات نے بے بس کردیا ہے اور وہ اپنے ادارو ںکی بقاء کیلئے اولیائے طلبہ اور سرپرستوں سے مذاکرات کیلئے آمادہ ہونے لگے ہیں ۔تعلیمی اداروں کی کشادگی کے سلسلہ میں تاحال کوئی فیصلہ نہ کئے جانے کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے ڈسمبر تک اسکولوں کی کشادگی کی اجازت فراہم نہ کئے جانے کے اشارے دیئے جانے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہونے لگی ہے اور خانگی اسکول انتظامیہ عاجزی و انکساری کے ساتھ فیس کے حصول اور مسائل کے حل کے لئے آگے آنے لگے ہیں ۔ریاستی حکومت کی جانب سے فیس کی وصولی کے لئے ہراسانی کی صورت میں پولیس میں شکایت کی گنجائش کی فراہمی اور بعض اسکولوں کے انتظامیہ کے خلاف پولیس میں شکایت کے بعد کئی اسکولوں نے فیس کی وصولی کے لئے یاددہانی کروانی بھی بند کردی ہے لیکن جو صورتحال ہے وہ بھی انتہائی تشویشناک ہونے لگی ہے کیونکہ اسکول انتظامیہ ان کے اپنے ملازمین بالخصوص اساتذہ کو تنخواہوں کی اجرائی سے قاصر ہیں اور دنیا کے مقدس ترین پیشہ سے تعلق رکھنے والے اساتذہ مجبور و بے بس ہوتے جارہے ہیں ۔ ان حالات میں اولیائے طلبہ و سرپرستوں کو بھی چاہئے کہ وہ اسکول انتظامیہ کے مسائل سے آگہی اور فیس کے بقایاجات کے سلسلہ میں مذاکرات کیلئے کی جانے والی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے اپنے اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پیشۂ تدریس سے وابستہ افراد کے مسائل کے حل کیلئے آگے آئیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ اپنے بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے والے اساتذہ کی ان مشکل حالات میں مدد کریں ۔