سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس میں سینکڑوں افراد مختلف عوارض کے تحت رجوع
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں ایک طرف حکام کو کورونا کی صورتحال اور خاص طور پر دوسری لہر کے اندیشوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہے تو دوسری طرف کورونا سے صحتیاب افراد میں مختلف پیچیدگیوں سے سرکاری و خانگی دواخانوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے ہر ضلع میں روزانہ ٹسٹوں میں اضافہ کی ہدایت دی تاکہ کیسوں کی حقیقی تعداد کا پتہ چلایا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل و دیگر دواخانوں میں 300 سے زائد ایسے مریض ہیں جو کورونا سے صحت کے بعد مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں اسطرح کے سینکڑوں مریض زیر علاج ہیں جو کورونا کے بعد صحت کے مسائل سے دوچار ہوگئے۔ بیشتر افراد ہوم کورنٹائن ہوکر علاج کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ ہاسپٹل پہنچے مریضوں سے پتہ چل رہا ہے کہ صحتیاب افراد دوبارہ پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صحت یابی کے باوجود سخت چوکسی کی ضرورت ہے کیونکہ عمرکے اعتبار سے ان میں دوبارہ دیگر امراض منظر عام پر آرہے ہیں۔ فالج، قلب پر حملہ اور گردہ اور دیگر اعضاء کے ناکارہ ہوجانے جیسے معاملات منظر عام پر آئے ہیں۔ صحتیابی کے تین ماہ کے دوران دوبارہ کوئی بھی عارضہ لاحق ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صحت یابی کے اندرون دس یوم مریضوں میں دوبارہ عوارض کی علامات ظاہر ہورہی ہیں۔