کورونا کے مریضوں کو نان ویجیٹیرین ڈشیس دینے جگا ریڈی کی تجویز

,

   

دال اور چاول سے قوت مدافعت میں اضافہ ممکن نہیں، گاندھی ہاسپٹل کیلئے فنڈز کی اجرائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔ کانگریس رکن اسمبلی جگا ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گاندھی ہاسپٹل میں کورونا کے مریضوں کو قوت مدافعت میں اضافہ کیلئے نان ویجیٹرین ڈشیس سربراہ کریں۔ جگا ریڈی نے کورونا کے علاج کو آروگیہ شری کے تحت شامل کرنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس سے غریبوں کو کارپوریٹ ہاسپٹلس میں بہتر علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگا ریڈی نے کہا کہ ریاست میں روزانہ ایک ہزار پازیٹیو کیسس منظر عام پر آرہے ہیں لیکن ان کا علاج کہاں ہورہا ہے اس کی تفصیلات حکومت کی جانب سے جاری نہیں کی جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل بلیٹن میں دی جارہی تفصیلات نامکمل اور غیر اطمینان بخش ہے۔ عوام گاندھی ہاسپٹل سے رجوع ہونے سے خوفزدہ ہیں اور خانگی دواخانوں میں بستروں کی کمی ہے۔ خانگی ہاسپٹلس میں روزانہ تقریباً 50 کورونا پازیٹیو کیسس آرہے ہیں اور انہیں بستروں کی کمی کے سبب واپس کیا جارہا ہے۔ گاندھی ہاسپٹل میں علاج کی سہولتیں میسر نہیں کچھ یہی حال سنگاریڈی اور دیگر اضلاع کے سرکاری دواخانوں کا بھی ہے۔ وزیر صحت عوامی زندگی کے تحفظ کے بجائے صرف بلیٹن کی اجرائی پر توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی علامات پر مریض کو فوری ہاسپٹل میں شریک کرنے سے اس میں صحتمند ہونے کی امید جاگے گی لیکن یہاں عوام کو گھروں پر رہنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔

گاندھی ہاسپٹل میں ڈاکٹرس اور نرسنگ اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرس کے مطابق دال اور کھانے سے قوت مدافعت میں اضافہ نہیں ہوتا اس کے لئے انڈا، چکن اور مٹن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی ہاسپٹل میں تمام مریضوں کو ناشتہ میں انڈا، دودھ اور لنچ و ڈِنر میں چکن اور مٹن کی ڈشیس سپلائی کی جائیں۔ انہوں نے گاندھی ہاسپٹل کیلئے 3000 کروڑ مختص کرنے اور اضلاع کے ہاسپٹلس کیلئے 2000 کروڑ کا مطالبہ کیا۔ اس رقم سے وینٹلیٹرس کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔جگا ریڈی نے کہا کہ عوام خانگی ہاسپٹلس کے اخراجات کی پابجائی کے متحمل نہیں ہوسکتے لہذا کورونا کو آروگیہ شری اسکیم کے تحت شامل کیا جائے۔