کے سی آر کو جگن کی تقلید کا مشورہ، کانگریس قائد محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کے سی آر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پڑوسی ریاست کے نوجوان چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کی تقلید کرتے ہوئے غریبوں کو کورونا کا مفت علاج یقینی بنائیں اور اسے آروگیہ شری کے تحت شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے مقابلہ سیاسی تجربہ میں کم ہونے کے باوجود جگن موہن ریڈی نے آندھرا پردیش کے عوام کی خدمت خاص طور پر کورونا وباء کے دوران علاج کی سہولتوں کیلئے جو فیصلے کئے ہیں وہ قابل تقلید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے غریبوں کیلئے مفت علاج کی اسکیم متعارف کی تھی اس کے علاوہ شہری اور دیہی علاقوں کیلئے 108 اور 104 خدمات کا آغاز کیا تھا۔ جگن نے اپنے والد سے حاصل کردہ جذبہ کو آگے بڑھاتے ہوئے مصیبت کی اس گھڑی میں غریب اور متوسط خاندانوں کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔ جگن نے نہ صرف کورونا کے علاج بلکہ نئے منظر عام پر آنے والے بلاک فنگس انفیکشن کے علاج کو بھی آروگیہ شری کے تحت شامل کیا جس سے غریب خاندانوں کو راحت ملے گی۔ تلنگانہ میں کورونا کے شکار مریضوں کو بستروں کی قلت کا سامنا ہے جبکہ آندھرا پردیش میں تمام خانگی دواخانوں میں 50 فیصد بستر آروگیہ شری اسکیم کیلئے مختص کئے گئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ غریبوں کی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر کو عملی اقدامات کے ذریعہ اس کا ثبوت دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں زیادہ تر مریض علاج کے اخراجات نہ ہونے کے سبب فوت ہورہے ہیں کیونکہ سرکاری دواخانوں میں بیڈس نہیں ہیں اور خانگی ہاسپٹلس لاکھوں روپئے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر کو اپنے پڑوسی جگن سے عوام کی خدمت کا طریقہ سیکھنا چاہیئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کورونا کے علاج کے معاملہ میں ٹی آر ایس حکومت نے غریبوں اور متوسط طبقات کو یکسر نظرانداز کردیا ہے۔ دولتمند افراد کارپوریٹ ہاسپٹلس سے رجوع ہورہے ہیں جبکہ غریب گھر میں فوت ہورہے ہیں کیونکہ وہ ہاسپٹل جانے اور اخراجات ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ انہوں نے ریاست میں ہیلت ایمرجنسی کے اعلان کے ذریعہ غریبوں کے مفت علاج کی سہولت کا مطالبہ کیا۔