کورونا کے پھیلاؤ پر مسلمانوں کیخلاف بیان بازی پر عرب خطہ برہم

,

   

عرب شہزادی ھیند ال قاسمی کی ہندوستانیوں کو وارننگ کے بعد سوشل میڈیا پر جہدکاروں، وکلاء اور جرنلسٹوں کا بھی شدید ردعمل

نئی دہلی ۔ 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی تبصروں نے برہمی کی لہر پیدا کردی ہے۔ موجودہ طور پر کوویڈ۔19 کے پھیلاؤ کو خواہ مخواہ مسلمانوں سے جوڑا جارہا ہے جو تعصب و نفرت پر مبنی بیان بازی تو ہے ہی، اسے جاہلانہ رجحان بھی کہنا پڑے گا۔ خلیجی ممالک میں تقریباً 8.9 ملین (89 لاکھ) ہندوستانی برسرکار ہیں۔ ہندوستان میں حالیہ تبدیلیوں اور بدلتے فرقہ وارانہ ماحول کی وجہ سے خلیج میں کام کرنے والے ہندوستانیوں میں بھی بے چینی پیدا ہورہی ہے حتیٰ کہ یو اے ای (متحدہ عرب امارات) کے شاہی خاندان کی رکن نے تارکین وطن کو انتباہ دیا کہ وہ اپنے تبصروں میں سوجھ بوجھ سے کام لیں۔ عرب دنیا میں سوشل میڈیا کے استعمال کنندگان نے حالیہ ہفتوں میں ہندوستانیوں کو متنبہ کیا کہ وہ مخالف مسلم اور مخالف عرب تبصروں سے گریز کریں۔ یو اے ای کی رائل فیملی کی ممبر نے وارننگ دی کہ اگر ہندوستانی اسی طرح نسل پرستانہ اور متعصبانہ تبصرے جاری رکھیں تو دولتمند مملکت میں کام کرنے والوں کو جرمانہ عائد کیا جائے گا اور انہیں یہاں سے بھیج دیا جائے گا۔ پرنسیس ھیند القاسمی کا ٹوئیٹر پر 16 اپریل کو بیان سامنے آیا جس کے ساتھ انہوں نے ایک ہندوستانی تارک وطن کے ٹوئیٹ کا اسکرین شاٹ منسلک کیا جس میں کٹر اسلامی تبلیغی افراد کو موت کی دھمکی دی گئی۔ تبلیغی جماعت والوں کو ہندوستان میں کوویڈ۔19 کیسوں میں اضافے کا موردالزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ 2015ء میں بھی بی جے پی ایم پی تیجسوی سوریہ نے عرب خواتین کے خلاف ریمارکس کئے تھے۔ اس کے جواب میں دبئی کی بزنسمین نورا ال غریر نے نشاندہی کی تھی کہ نے خواتین کے تئیں احترام کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسے عرب سرزمین کا سفر کرنے کے خلاف انتباہ دیا۔ سوریہ نے بعد میں ٹوئیٹ کو حذف کردیا۔ حیدرآباد کی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبہ پولیٹیکل سائنس کے صدر افروزعالم نے کہا کہ خلیجی مملکتوں نے ہندوستان کے ساتھ ’’منصفانہ‘‘ رشتہ برقرار رکھا ہوا ہے اور کبھی مسلم اکثریتی کشمیر خطہ کے خلاف نئی دہلی کی سخت مہم یا 2014ء کے بعد سے بی جے پی حکمرانی میں مسلمانوں پر حملوں کے بارے میں تبصرے نہیں کئے۔

اس کے باوجود ہندوستان میں غیرمسلم برادری اور لیڈروں کا اقلیتی طبقہ کے خلاف مسلسل متعصبانہ رویہ ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ اسے احمقانہ فن نہیں تو اور کیا کہیں گے کہ ہندوستان میں ’’اسلاموفوبیا (اسلام کا خوف)‘‘ ایسا برتا جارہا ہیکہ کوروناوائرس وباء کیلئے تک تبلیغی جماعت کو موردالزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ یہ حد ہوگئی۔ چنانچہ عربوں میں خلاف معمول تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے اور وہ ہندوستان میں بڑھتی مخالف مسلم بیان بازی کی کھلے طور پر مذمت کرنے لگے ہیں۔ اس ہفتے خلیج کے کئی نامور جرنلسٹوں، وکلاء اور جہدکاروں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے احساسات کا اظہار کیا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ خراب برتاؤ پر کس قدر نالاں ہیں۔ جنوبی ایشیائی ملک کی آبادی میں سرکاری ڈیٹا کے اعتبار سے مسلمان 14 فیصد ہیں۔ سوشل میڈیا پر متعدد تبصروں میں مسلمانوں کی بلاوجہ پٹائی تاکہ ہلاکت کی سخت مذمت کی جارہی ہے اور بعض نے کہا ہیکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کی محاذی تنظیمیں ان فرقہ وارانہ واقعات کے پس پردہ کارفرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مادر تنظیم آر ایس ایس نامعقول ہے اور اسے دہشت گرد گروپ
کہا جانا زیادہ مناسب ہے جس پر گلف میں پابندی عائد کردینا چاہئے۔ گذشتہ روز انڈیا میں ٹوئیٹر پر

#Islamophobia_in_India

کا رجحان شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے مختلف گوشوں سے ہندوستانی حکومت کے خلاف اور ہندوستانی مسلمانوں کی حمایت میں ردعمل شروع ہوگئے۔ شاید اسی لئے مودی کو چند روز قبل ٹوئیٹ کرنا پڑا کہ کوویڈ۔19 نسل یا مذہب نہیں دیکھتا ہے لیکن اس سے ہندوستانی حکومت اور آر ایس ایس و دیگر فرقہ پرست تنظیموں کے خلاف ردعمل میں کچھ خاص کمی نہیں آئی۔ تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) نے ہندوستانی حکومت سے اسلام کے خلاف نفرت و خوف کے بڑھتے رجحان کو روکنے کے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ ہندوستانی وزیراقلیتی امور مختارعباس نقوی نے گذشتہ روز کہا کہ یہ ملک اقلیتوں اور مسلمانوں کیلئے جنت کی مانند ہے۔ عام طور پر یہ نظریہ پایا جاتا ہیکہ ہندوستانی افراد ثقافتی طور پر مختلف النوع، اعتدال پسند اور فراخدلانہ رجحان رکھتے ہیں۔ اس بارے میں خلیجی ملکوں میں رائے بدل رہی ہے۔ سعودی عرب کے نمایاں سیاسی تجزیہ نگار خالد ال معینہ جو خود کو ہندوستان کا دوست بتاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس کی ساکھ خلیج میں تیزی سے گرتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف بی جے پی اور آر ایس ایس کے کینہ پرور ایجنڈہ کو جاکر کہنے کی شہری مہم شروع کی جاچکی ہے اور زور دیا جارہا ہیکہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات گھٹائے جائیں۔ خلیج میں لوگ واقع برہم ہیں۔ تاہم، دیکھنا ہیکہ آیا سوشل میڈیا پر یہ غم و غصہ واقعی مشرق وسطیٰ کے ساتھ ہندوستان کے رشتے پر اثر ڈالے گا؟ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) میں یو اے ای، بحرین، کویت، عمان، قطر اور سعودی عرب شامل ہیں۔ ان تمام مملکتوں میں 8.9 ملین ہندوستانی کام کرتے ہیں۔ ان ملکوں کے ساتھ ہندوستان کی سالانہ تجارت 100 بلین ڈالر کے نشانہ سے آگے بڑھ چکی ہے جبکہ انڈیا اس خطہ سے اپنی تیل کی 80 فیصد ضرورتوں کو درآمد کرتا ہے۔ یو اے ای اور سعودی عرب نے اپنے ملکوں کے ساتھ روابط کو بہتر بنانے پر وزیراعظم مودی کو اپنا اعلیٰ ترین سیویلین ایوارڈ عطا کیا ہے۔ افروزعالم کا کہنا ہیکہ سیول سوسائٹی کے شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے خلیجی ملکوں کی حکومتیں بھی لب کشائی کرسکتی ہے۔ ایک بی جے پی پارلیمنٹیرین جو پارٹی کے سمندر پر امور سے گہری وابستگی رکھتا ہے، اس نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر کہا کہ عرب ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے روابط کافی مضبوط ہیں اور انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف مظالم کے تعلق سے الزامات پر سوشل میڈیا کے غم و غصہ کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔