کورونا کے کمیونٹی ٹرانسمیشن کے خوف سے ٹسٹنگ مراکز پر عوام کا ہجوم

   

Ferty9 Clinic

عام بخار کی صورت میں عوام خوفزدہ، خانگی مراکز کی من مانی

حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میں کورونا کے کمیونٹی ٹرانسمیشن کے متعلق عہدیداروں کے اندیشہ نے عوام میں خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ مانسون کی آمد کے بعد اگرچہ وائرل فیور سے عوام کا متاثر ہونا معمول کی بات ہے لیکن بخار، سردی اور کھانسی کی صورت میں خوفزدہ ہوکر عوام کورونا ٹسٹ کیلئے دوڑ لگارہے ہیں یہی وجہ ہے کہ سرکاری اور خانگی ٹسٹنگ مراکز پر عوام کی طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ ماہرین طب نے اگرچہ واضح کیا کہ ہر بخار، کھانسی اور زکام کورونا نہیں ہوتا لیکن کمیونٹی ٹرانسمیشن کے اندیشہ نے شکوک و شبہات کو تقویت پہنچائی ہے جس کے نتیجہ میں ٹسٹنگ مراکز کا کاروبار عروج پر ہے۔ خانگی ڈائیگناسٹک سنٹرس کورونا ٹسٹ کیلئے من مانی رقم وصول کررہے ہیں۔ پرائمری ہیلت سنٹرس، کمیونٹی ہیلت سنٹرس اور خانگی مراکز پر شہری اور دیہی علاقوں میں طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ اگرچہ ان میں بعض کورونا کے کیسس موجود رہتے ہیں جو دوسروں کو متاثر کرسکتے ہیں لیکن عوام اس سے بے خبر ٹسٹنگ کیلئے قطار میں گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔ ہر ٹسٹنگ سنٹر پر تقریباً 50 ٹسٹ کی گنجائش موجود ہے لیکن 300 تا400 افراد روزانہ رجوع ہورہے ہیں۔ عوام کا بڑی تعداد میں ٹسٹنگ مراکز پر آنا نہ صرف ٹسٹ بلکہ نتائج کے اظہار میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔ ٹسٹنگ مراکز پر عوام کو ٹوکن دیئے جاتے ہیں اور وقت کی نشاندہی کی جارہی ہے لیکن عوام مرکز پر اپنی باری کے انتظار کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کئی ایسے افراد بھی ٹسٹنگ مراکز پر دیکھے گئے جن میں کورونا کی کوئی علامات نہیں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افراد خوف کی وجہ سے ٹسٹ کیلئے مراکز پر دیکھے گئے۔ بعض خانگی اداروں نے گھروں سے سیمپل کلکشن کی مہم شروع کی ہے۔ ملکاجگری ضلع میں 36 ٹسٹنگ مراکز میں روزانہ گنجائش سے زیادہ افراد دیکھے گئے۔ حیدرآباد اور خاص طور پر پرانے شہر کے مراکز پر بھی غیر معمولی ہجوم دیکھا جارہا ہے۔ ایسے افراد جو کبھی ٹسٹ کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے وہ کمیونٹی ٹرانسمیشن کے خوف سے ٹسٹنگ مراکز پہنچ رہے ہیں۔