نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف۔ موسم سرما میں احتیاط اور کھلی فضا میں رہنا ضروری
جنیوا : ایک نئی سائنسی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ فضا میں تیرتے ہوئے ایسے ننھے آبی قطرے، جو وائرس کو ایک فرد سے دوسرے فرد تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں، چھ فٹ سے زیادہ فاصلہ بھی طے کر سکتے ہیں۔ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے جو احتیاطی تدابیر وضع کی گئی ہیں۔ ان میں ایک فرد سے دوسرے کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھنا بھی شامل ہے۔ لیکن کیا چھ فٹ دور رہنے سے لوگ وائرس سے محفوظ ہو جاتے ہیں؟ماہرین اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فضا میں تیرتے ہوئے ایسے ننھے آبی قطرے، جو وائرس کو ایک فرد سے دوسرے فرد تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں، چھ فٹ سے زیادہ فاصلہ بھی طے کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کی اثر پذیری میں کمی آ سکتی ہے۔کرونا وائرس ہوا کے ذریعے پھیلنے والی وبا ہے۔ جب وائرس میں مبتلا کسی شخص کی کھانسی، چھینک، بولنے، تھوکنے یا سانس لینے سے منہ یا ناک سے خارج ہونے والی ہوا میں بخارات کی شکل میں بہت بڑی تعداد میں پانی کے انتہائی چھوٹے قطرے بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ قطرے وائرس کے لیے ایک شخص سے دوسری شخص میں منتقلی کا کام کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حجم میں بڑے قطروں میں وائرس کے ذرات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن بڑے ہونے کے سبب وہ بھاری ہوتے بھی ہیں۔اسی وجہ سے ماہرین چھ فٹ سے زیادہ فاصلے کو محفوظ قرار دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق دوسری جانب مریض کے منہ یا ناک سے خارج ہونے والے پانی کے انتہائی چھوٹے قطرے نہ صرف زیادہ دور تک جا سکتے ہیں۔ بلکہ وہ زیادہ وقت تک فضا میں اپنا وجود بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اگر کرونا وائرس کا مریض کسی کمرے یا بند جگہ پر ہو،تو ان آبی بخارات کا قیام مزید بڑھ جاتا ہے۔اگر چھوٹے سائز کے ان آبی ذرات کی مقدار زیادہ ہو، تو قریب موجود افراد میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سائنس دانوں کو تجربات سے پتا چلا ہے کہ کرونا وائرس لے جانے والے مائیکرو سائز کے آبی قطرے زمین پر گرنے سے قبل کئی منٹ بلکہ بعض صورتوں میں کئی گھنٹے تک فضا میں تیرتے رہتے ہیں۔