کورٹلہ میں سیاسی ماحول گرم، کانگریس پارٹی پھوٹ کا شکار

   

سینئر قائد محمد وسیم کے استعفی اور بی آر ایس ٹکٹ پر قسمت آزمائی سے کانگریس کو دھکہ
کورٹلہ ۔ 6 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کورٹلہ ٹاؤن میں سیاسی ماحول میں کافی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے ایک جانب بی آر ایس دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کانگریس پارٹی میں پائے جانے والے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ کانگریس میں کئی سال تک کام کرنے والے کئی قائدین کو ٹکٹ نہ ملنے سے کانگریس قائدین میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ان حالات میں چند قائدین بی آر ایس میں شامل ہوئے اور چند قائدین آزاد امیدواروں کے طور پر انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ اس تبدیلی سے کانگریس پارٹی کو سخت دھکہ لگا ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں ناانصافی ہونے پر کارکن، قائدین میں ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی میں کام کرنے والوں کو اہمیت نہ دیئے جانے کی وجہ سے پارٹی چھوڑنا پڑ رہا ہے جس کے نتیجہ میں کانگریس میں پھوٹ واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ ووٹ بینک متاثر ہونے کے حالات دکھائی دے رہے ہیں۔ ان حالات میں بی آر ایس بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کے لئے آگے بڑھ رہی ہیں۔ کورٹلہ ٹاؤن کے سیاست میں اس تبدیلی سے آئندہ ہونے والے مجلس بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر اثرات دکھائی دیئے جانے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ کانگریس ان حالات کا کس طرح سامنا کرتی ہے۔ اندرونی اختلافات کس طرح ختم کرتی ہے اس وقت اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ کانگریس کو بڑا دھکہ جناب وسیم نے بی آر ایس پارٹی میں شامل ہوکر دیا ہے۔ جناب وسیم جو کئی سال تک کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے انہیں کانگریس پارٹی کا ٹکٹ نہ دیئے جانے پر انہوں نے کانگریس سے مستعفی ہوکر بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ وہ اس بار وارڈ نمبر 32 سے بی آر ایس پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ وسیم جو وارڈ نمبر 32 کے مسائل سے پوری طرح واقف ہیں اور جن کی عوام میں اچھی عزت ہے۔ ان کی تائید میں اضافہ ہونے کا انہوں نے بھروسہ ظاہر کیا۔ وسیم کے بی آر ایس پارٹی میں شمولیت سے بی آر ایس پارٹی کی طاقت میں مزید اضافہ ہونے کا سیاسی تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں۔ بی آر ایس جہاں ایک جانب اپنی طاقت میں اضافہ کررہی ہے وہیں کانگریس پارٹی میں ہونے والے استعفوں سے کانگریس پارٹی شدید بحران کا سامنا کررہی ہے۔ سینئر کانگریس قائدین کے پارٹی چھوڑنے سے کانگریس کا ووٹ بینک کمزور ہونے کا خطرہ واضح دکھائی دے رہا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وسیم کے بی آر ایس پارٹی میں شامل ہونے سے کورٹلہ کی سیاست میں اہم تبدیلی دکھائی دے رہی ہے جو مجلس بلدیہ کورٹلہ کے انتخابی نتائج پر واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ وارڈ نمبر 32 کے مسلم ووٹرس کا کہنا ہے کہ وسیم جنہوں نے بی آر ایس پارٹی کے 10 سالہ دور اقتدار میں کانگریس پارٹی سے وابستہ رہتے ہوئے وارڈ نمبر 32 کے عوامی مسائل کے حل کے لئے کافی جدوجہد کی۔ انہیں نظرانداز کرتے ہوئے بی آر ایس کے دور اقتدار میں اقتدار کے مزے لوٹتے ہوئے کانگریس پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس پارٹی میں شامل ہونے والے جندم لکشمی راجم کو کانگریس پارٹی ٹکٹ دیئے جانے پر وارڈ نمبر 32 کے مسلمانوں میں کانگریس پارٹی کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ جناب وسیم کا کہنا ہے کہ وارڈ نمبر 32 میں انہیں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم افراد کی بھرپور تائید حاصل ہے۔ انہوں نے عوام کے آشیرواد سے وارڈ نمبر 32 سے کامیابی حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔