ممبئی 3 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) این سی پی لیڈر و رکن اسمبلی دھننجے منڈے نے کوریگاوں۔ بھیما تشدد پونے کے مقدمات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے ۔ مہاراشٹرا چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کی جانب سے آرے میٹرو کار شیڈ احتجاجیوں اور نانر ریفائنری احتجاجیوں کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کے اعلان کے بعد یہ مطالبہ سامنے آیا ہے ۔ دھننجے منڈی کی پارٹی شیوسینا زیر قیادت مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی اہم حلیف ہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے مقدمات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ کوریگاوں ۔ بھیما گاوں پونے ضلع میں یکم جنوری 2018 کو ایک اجلاس میں اشتعال انگیز تقرارے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا ۔ اس کے بعد دلت تنظیموں کی جانب سے بند کا اعلان کیا گیا تھا اور دلتوں کا الزام تھا کہ پولیس نے ان کے خلاف طاقت کا بیجا استعمال کیا ہے ۔ ٹھاکرے کو اپنے مکتوب میں منڈے نے ادعا کیا کہ سابقہ دیویندر فڈنویس حکومت نے کوریگاوں ۔ بھیما واقعہ میں کئی افراد کے خلاف فرضی مقدمات درج کئے ہیں جن میں سماجی جہد کار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ بی جے پی حکومت نے اپنے اقتدار میں دانشوروں ‘ کارکنوں ‘ سماجی کارکنوں اور عام شہریوں کو بھی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے پر ہراساں کیا ہے اور انہیں شہری نکسل قرار دینے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں نئی حکومت میں ان مقدمات سے دستبرداری اختیار کرلیں۔ چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے نے ایک موقع پر کہا ہے کہ وہ ان مقدمات کی دستبرداری کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔