کوسوو اور البانیہ میں افغان مہاجرین کو عارضی قیام کی اجازت

   

امریکہ منتقلی سے قبل کسی تیسرے ملک میں ویزا پراسسنگ کیلئے امریکہ کے درخواست پر فیصلہ

ترانہ: امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے افغان مترجمیں اپنے خاندانوں کے ساتھ امریکہ منتقلی کے لیے کابل میں امریکی سفارت خانے کے ہا ہر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ امریکہ ہزاورں افغان باشندوں کی امریکہ منتقلی کی پراسسنگ کسی تیسرے ملک میں کرنا چاہتا ہے۔البانیا اور کوسوو نے اتوار کے روز بتایا کہ انہوں نے امریکہ کی یہ درخواست قبول کر لی ہے جس میں امریکہ جانے کی خواہش رکھنے والے افغان مہاجرین کو عارضی طور پر اپنے ملک میں قیام کی اجازت دینے کے لیے کہاگیا تھا تاکہ اس دوران ان کے ویزوں کی پراسسنگ مکمل ہو سکے۔دارالحکومت ترانہ میں وزیر اعظم ادی راما نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اپنے نیٹو اتحادی ملک البانیا سے پوچھا تھا کہ آیا وہ ان بہت سے افغان مہاجرین کو اپنے ہاں عارضی قیام کی سہولت فراہم کر سکتے ہیں جن کی آخری منزل امریکہ ہے۔راما نے فیس بک پر کہا ہے کہ”ہم انہیں ‘ناں’ نہیں کہیں گے۔ نہ صرف اس لیے کہ وہ ہمارے ایک عظیم اتحادی ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ ہم ‘البانیا’ ہیں”۔ذرائع کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے البانیا اور کوسوو سے اس بارے میں مذاکرات کیے تھے کہ امریکہ کے لیے کام کرنے والے افغان باشندوں کو طالبان سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں اپنے ہاں اس وقت تک عارضی طور پر قیام کی اجازت دے دی جائے جب تک امریکہ کے لیے ان کے ویزوں کی کارروائی مکمل نہ ہو جائے۔کوسوو کی صدر ویوسا عثمانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت وسط جولائی سے افغان مہاجرین کے قیام سے متعلق امریکی حکام سے رابطے میں ہے۔عثمانی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں لکھا ہے کہ “کسی ہچکچاہٹ اور شرط کے بغیر میں نے انسانی ہمدردی کے اس آپریشن پر اپنی رضامندی ظاہر کر دی”۔عثمانی نے کہا کہ امریکی سیکیورٹی حکام افغان مہاجرین کی جانچ پرکھ کریں گے اور وہ اس وقت تک کوسوو میں رہیں گے جب تک امیگریشن ویزے کے لیے ان کی دستاویزات مکمل نہیں ہو جاتیں۔-99 1998 میں اس وقت کے یوگوسلاویہ کی فورسز کے ساتھ لڑائی کے بعد سے سینکڑوں امریکی فوجی کوسوو میں امن کاروں کے طور پر تعینات ہیں۔