کانگریس کے دور میں 47 فرقہ وارانہ واقعات ، راجہ سنگھ کی گستاخی پر خاموشی : شیخ عبداللہ سہیل
حیدرآباد۔ 3 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے سینئر قائد شیخ عبداللہ سہیل نے بی آر ایس کے ایم ایل اے کوشک ریڈی کے ریمارکس پر پیدا کئے گئے تنازعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کانگریس قائدین جان بوجھ کر انہیں فرقہ پرست لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ شیخ عبداللہ سہیل نے واضح کیا کہ کوشک ریڈی نے مسلمانوں کے خلاف کوئی گالی یا توہین آمیز بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کوشک ریڈی ہمیشہ سکیولر نقطہ نظر کے حامل رہے ہیں اور کبھی مذہبی سیاست میں ملوث نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود کانگریس قائدین بات کا بتنگڑ بناتے ہوئے بلدی انتخابات میں سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ عوام کے سامنے پیش کرنے کوئی کارنامہ نہیں ہے، اس لئے کوشک ریڈی کو موضوع بحث کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ پولیس کی جانب سے انہیں مذہب تبدیل کرنے کے ریمارکس کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے جس کی کوشک ریڈی نے تردید کی ہے اور ثبوت پیش کرنے پر سیاست سے دستبردار ہوجانے کا اعلان کیا ہے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود کوشک ریڈی نے معذرت خواہی کی ہے مگر سیاسی فائدے کیلئے اس معاملے کو بلاوجہ طول دیا جارہا ہے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے سوال اٹھایا کہ جب جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ کا ضمنی انتخاب ہورہا تھا، چیف منسٹر ریونت ریڈی نے یہ بیان دیا تھا کہ کانگریس ہے تو مسلمان ہیں، کانگریس نہیں تو مسلمان نہیں۔ تب سب خاموش تھے حالانکہ اس وقت ایک مسلم ایم ایل سی بھی موجود تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کے 26 ماہی دور حکومت میں 47 فرقہ وارانہ واقعات پیش آئے لیکن اس پر بھی کوئی آواز نہیں اُٹھی۔ متنازعہ ایم ایل اے راجہ سنگھ اسلام کے خلاف مسلسل توہین آمیز بیانات دینے کے باوجود خاموشی اختیار کی گئی۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ عوام سب کچھ سمجھ رہے ہیں، کانگریس کو اس کی دوہری پالیسی پر بلدی انتخابات میں سبق سکھائیں گے۔2