کوشک ریڈی کے خلاف کارروائی کا امکان، معاملہ اخلاقیات کمیٹی سے رجوع

   

کڈیم سری ہری کو دھمکانے کا الزام، دلتوں کی توہین کے نام پر چیف منسٹر اور وزراء کا سخت ردعمل
حیدرآباد۔ 29 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس رکن اسمبلی پی کوشک ریڈی کی جانب سے کانگریس رکن اسمبلی کڈیم سری ہری کو مبینہ طور پر دھمکی دینے کا معاملہ تلنگانہ اسمبلی میں گرما گرم مباحث کا سبب بن گیا۔ حکومت نے کوشک ریڈی کے خلاف کارروائی کے معاملہ کو ایوان کی اخلاقیات (ایتھکس) کمیٹی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی وزراء اور کانگریس کے ارکان اسمبلی نے کوشک ریڈی کی اسمبلی کی رکنیت کو کالعدم کرنے کے لئے اسپیکر سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب غیر قانونی مائننگ کے مسئلہ پر بی آر ایس کے احتجاج کے دوران اسٹیشن گھن پور کے رکن اسمبلی کڈیم سری ہری اظہار خیال کے لئے اٹھے۔ سری ہری پر بی آر ایس سے کانگریس میں انحراف کا الزام ہے اور جیسے ہی انہوں نے مائیک سنبھالا بی آر ایس کے ارکان نے شور و غل کیا۔ پی کوشک ریڈی نے سری ہری کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ہاتھ کے اشارہ سے انہیں گولی مارنے کی دھمکی دی۔ کوشک ریڈی کا یہ عمل ایوان میں دلت طبقات سے تعلق رکھنے والے ارکان کے لئے احتجاج کا سبب بنا۔ کئی وزراء اور دلت ارکان اسمبلی نے کوشک ریڈی کی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جس طرح بی آر ایس دور حکومت نے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کی رکنیت کو یہ کہتے ہوئے کالعدم کردیا تھا کہ انہوں نے اسپیکر کی طرف ہیڈ فون پھینکے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے کوشک ریڈی کے رویہ کو مخالف دلت قرار دیا اور اسپیکر کو تجویز پیش کی کہ اس معاملہ کو ایوان کی اخلاقیات کمیٹی سے رجوع کیا جائے۔ چیف منسٹر نے اسپیکر سے کہا کہ اخلاقیات کمیٹی کی جلد تشکیل عمل میں لاتے ہوئے کوشک ریڈی کے معاملہ کو رجوع کیا جانا چاہئے اور کمیٹی کی سفارشات کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور تقریباً تمام ریاستی وزراء اور کانگریس کے دلت ارکان اسمبلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کوشک ریڈی کو نشانہ بنایا اور اسمبلی کی رکنیت کالعدم کرنے کی مانگ کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس اور اس کے قائد کے سی آر مخالف دلت ہیں اور اسمبلی میں دلت اسپیکر کے تحت کارروائی میں حصہ لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں ہمیشہ دلتوں کی توہین کی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن دلتوں سے دھوکہ دہی کی گئی۔ نائب وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر دلت کو فائز کیا گیا لیکن اچانک انہیں برطرف کردیا گیا۔ 2018 میں کے ایشور کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے دلتوں کی محدود نمائندگی دی گئی۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھٹی وکرامارکا کو قائد اپوزیشن کے عہدہ سے محروم کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے دلت لیڈر بھٹی وکرامارکا کو نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر فینانس مقرر کیا ہے۔ کابینہ میں دامودرراج نرسمہا، ویویک وینکٹ سوامی، سیتکا، لکشمن کمار کو شامل کیا گیا جبکہ گورنمنٹ وہپ کے عہدے پر رام چندر نائک، وی ویریشم اور اے دیاکر کو فائز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور میں کے سی آر اور ان کے افراد خاندان میں اہم عہدے تقسیم کئے گئے۔ انہوں نے ہریش راؤ اور کے ٹی آر سے سوال کیا کہ اگر کے سی آر کے ساتھ توہین آمیز رویہ کیا گیا تو کیا قبول کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ کوشک ریڈی سے نمٹنے کانگریس میں کئی ارکان موجود ہیں لیکن حکومت شخصی تصادم نہیں چاہتی۔ 1