سنیل نارائین کی ٹیم میں جگہ پر سوالیہ نشان
کولکتہ۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اہم کھلاڑی کا موقف رکھنے والے سنیل نارائن کو پلیئنگ الیون میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کیلئے جلد اپنا فام ثابت کرنا پڑے گا جب ان کی ٹیم کو پنجاب کنگز کا پیرکو یہاں انڈین پریمیئر لیگ سامنا کرنا ہے۔ ٹرینیڈاڈ کا کھلاڑی نارائین جس نے موجودہ 12 سیزن میں پھیلے ہوئے 158 میچز کھیلے ہیں، اس کے پاس چار نصف سنچریوں کے ساتھ 1039 رنزکے ساتھ 159 وکٹیں ہیں، جب اس نے اپنی بیٹنگ پرکام کیا جب ایکشن مشتبہ سمجھا گیا ۔ نارائن سابق کی طری ایک پراسرار بولر نہیں رہا، جس نے کئی سیزنوں میںٹی20 فرنچائز کیلئے شاندار کارنامے انجام دئے ہیں لیکن رواں سیزن وہ انتہائی خوش قسمت نہیں رہے ہیں۔ 2012 اور 2014 کے آئی پی ایل کے معمار نے ان سیزن میں 24 اور 21 وکٹیں حاصل کیں، اپنے گزشتہ تین سیزن میں جدوجہد کی ہے لیکن کے کے آر انتظامیہ (بنیادی فیصلہ ساز سی ای او وینکی اوراسسٹنٹ کوچ ابھیشیک نیر) ان کے ساتھ ڈٹے رہے۔ تاہم ٹیم کے 10 مقابلوں میں صرف چار فتوحات کے ساتھ ایک اور راؤنڈ رابن سے باہر ہونے کے خطرے کے ساتھ، اگلے چار مقابلوں میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کے کے آر اب بھی نارائین کو کھیلانے کا متحمل ہے، جس کے پاس 8.76 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ 10 میچوں میں صرف سات وکٹیں ہیں اور 80 سے کم اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 8 بیٹنگ اننگز میں مجموعی طور پر14رنزہیں۔ جہاں کے کے آر کو کچھ سخت انتخابی فیصلے لینے کی ضرورت ہے، وہیں پنجاب کنگز بھی پریشانی کے عالم میں ہے اور یہ میچ ان کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ ممبئی انڈینزکے خلاف اپنے آخری مقابلے میں ناکام ہونے کے بعد شکھر دھون کی قیادت والی ٹیم دو پوائنٹس کی برتری کے ساتھ آٹھویں نمبر پر موجود کے کے آرسے آگے ہو سکتی ہے لیکن دونوں ٹیمیں خاتمے کی طرف دیکھ رہی ہیں۔اس سے بھی زیادہ نتیش رانا کی کپتانی والی میزبان ٹیم کے معاملے میں جو اس سیزن میں اپنے آخری چار میچوں میں کرو یا مرو کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کے تھنک ٹینک کی سربراہی چندرکانت پنڈت میں ایک ذہین گھریلو حکمت عملی کے ماہر ہیں، انہیں بھی اپنے دوکیریبین ستاروں نارائن اورآندرے رسل سے آگے سوچنا چاہیے۔ رسل بہترین ٹی20 آل راؤنڈر ہیں۔ مجھے اس کے بارے میں زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نارائن کی وجہ سے ایک بیرون ملک کھلاڑی کا مقام پر ہوگیا ہے کیونکہ کے کے آر پیس گن لوکی فرگوسن اور ڈیوڈ ویزکی خدمات سے محروم ہے، جو ایک حقیقی سیون بولنگ آل راؤنڈر ہیں۔ جو بیٹنگ تیز رفتار اننگز بھی دے سکتے ہیں۔ یہ کہ ورون چکرورتی 20.14 پر 14 وکٹوں کے حصول کے ساتھ ان کے پریمیئر اسپنر بن گئے ہیں اور حالات ایسے ہوچکے ہیںکہ کے کے آر کو نارائن سے آگے سوچنا چاہیے، جب رانا نے چکرورتی کو آخری اوور میں نو رنزکا دفاع کرنے کی ذمہ داری دی تو انہوں نے سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف پانچ رنزکی سنسنی خیز کامیابی دلوائی ۔جہاں تک رسل کا تعلق ہے کے کے آر ایک اورسوچ کے ساتھ انہیں موقع دے سکتا ہے کیونکہ رسل کو بیٹنگ کے کارناموں کو دکھانے کے محدود مواقع ملے ہیں۔جمیکا کے بگ ہٹرکے 166 رنز ہیں اور اس نے 148 سے زیادہ کی اسٹرائیک ریٹ پر بیٹنگ کی۔تاہم انہوں نے بولر کے طور پر اثر دکھایا ہے ۔ رسل نے درمیانی اوورز میں ٹیم کو اہم کامیابیاں دیں جیسا کہ انہوں نے 20.14 پر سات وکٹیں حاصل کی ۔ تین گھریلو میچز باقی رہنے کے ساتھ کے کے آر ایڈن گارڈنزکے حالات کا فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہوگا تاکہ پلے آف میں رسائی کے اپنے امکانات کو زندہ رکھا جا سکے۔