نئی ممبئی۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے پلے آف کی اپنی امیدوں کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے آخری لیگ میچ میں بڑی جیت درکار ہے، جبکہ لکھنؤ سوپر جائنٹس چہارشنبہ کو یہ میچ جیتنے کی کوشش کرے گی تاکہ وہ دوسرا مقام حاصل کرسکے ۔کے کے آر 13 میچوں میں چھ جیت سے 12 پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل میں چھٹے نمبر پر ہے اور اسے پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے دوسرے میچوں کے نتائج پر انحصار کرنا پڑے گا چاہے وہ یہ میچ بڑے فرق سے جیت سکے۔لکھنؤ کی ٹیم پلے آف میں جگہ حاصل کرنے سے ایک قدم دور ہے۔ ٹیم کے 13 میچوں میں 16 پوائنٹس ہیں اور اس میچ میں جیت اس کا پلے آف کا ٹکٹ یقینی بنائے گی۔دو بارکی چمپئن کے کے آر پچھلے سال فائنل میں پہنچی تھی لیکن اس سیزن میں رفتار برقرار نہیں رکھ سکی۔ ٹیم نے تاہم آخری دو میچوں میں ممبئی انڈینس اور سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف جیت درج کرکے اپنی امیدوں کو زندہ رکھا۔ شریاس ایرکی قیادت والی ٹیم نے آندرے رسل کے آل راؤنڈر کھیل اور بولروں کی بہترین کارکردگی کی بدولت گزشتہ میچ میں سن رائزرز حیدرآباد کو 54 رنز سے شکست دی۔ رسل اور سیم بلنگز نے اس میچ میں ٹاپ آرڈرکی ناکامی کے بعد ٹیم کو چھ وکٹ پر177 رنز تک پہنچایا اور پھر بولروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ٹاپ آرڈر پر اجنکیا رہانے پورے سیزن میں جدوجہد کرتے رہے۔ تاہم وہ ہیمسٹرنگ کے تناؤ کی وجہ سے موجودہ سیزن سے باہر ہو گئے تھے۔ گزشتہ سیزن کے ہیرو وینکٹیش ایر نے اس سیزن میں مایوس کیا۔ نتیش رانا اور شریاس ایر مسلسل اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ امیش یادیو نے زخموں سے صحت یاب ہونے کے بعد ٹم ساؤتھی کا خوب ساتھ دیا اور رسل نے بھی کچھ اہم وکٹیں حاصل کیں۔ سنیل نارائن اور ورون چکرورتی کی اسپن جوڑی نے بھی گزشتہ چند میچوں میں رفتار پائی۔ لکھنؤ کی ٹیم اس میچ میں لگاتار دو شکستوں کا سلسلہ توڑنا چاہے گی۔ ان دونوں میچوں میں ٹیم کے بیٹرس نے مایوس کیا۔ ٹیم کپتان لوکیش راہول پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اس نے سیزن میں دوسنچریاں اسکور کی ہیں لیکن پچھلے تین میچوں میں بڑا سکورکرنے میں ناکام رہے ہیں۔ تجربہ کارکوئنٹن ڈی کاک کا بھی یہی معاملہ ہے۔ انہوں نے پچھلی دو اننگز میں صرف 11 اور سات رنز بنائے ہیں۔ تاہم ٹیم کے لیے سب سے بڑا مثبت پہلو دیپک ہڈا کا مظاہرہ ہے، جو مسلسل رنز بنا رہے ہیں۔ تاہم لکھنؤ سوپر جائنٹس کی ٹیم نوجوان کھلاڑیوں آیوش بدونی اور مارکس اسٹوئنس کا بہتر استعمال کرنا چاہے گی۔ سیزن کے بیشتر میچوں میں ٹیم کی بولنگ اچھی رہی لیکن ان کے خلاف آخری میچ میں راجستھان رائلز کے بیٹرس کو رنز بنانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ اگر لکھنؤ اس میچ میں جیت درج کرنا چاہتا ہے تو اویس خان، محسن خان، جیسن ہولڈر اور روی بشنوئی کو اچھی بولنگ کرنی ہوگی۔کے کے آر کیلئے اس کے اوپنر ویٹکیش ایر کے علاوہ اسپنر سنیل نارائین کے اپنے معیار کے مطابق مظاہرے نہ کرنے کا بھی کافی نقصان ہورہا ہے ۔