کولہاپور: مہاراشٹر کے کولہاپور کے رکن پارلیمنٹ اور کانگریس لیڈر شاہو چھترپتی نے منگل کو یہاں وشال گڑھ قلعہ کے قریب حالیہ تشدد اوردکانوں میں توڑ پھوڑ کی سخت مذمت کی۔ چھترپتی نے شاہواڑی تحصیل میں کہاکہ ترقی پذیرکولہاپور میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور تاریخی وشال گڑھ قلعے میں اتوار کا تشدد بدقسمتی اور غیر متوقع تھا۔ایم پی کے تبصرے اس دن آئے جب وشال گڑھ قلعہ کے قریب گجپور میں کشیدگی پھیل گئی اور کولہا پور و شاہواڑی پولیس نے انہیں اور ضلع کانگریس صدر ستیج پاٹل کو تجاوزات کے خلاف خاموش احتجاج کے دوران بھڑکے تشدد میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے قلعہ کے علاقے میں جانے سے روک دیا۔ چھترپتی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مہاراشٹرا حکومت کو کسی بھی مذہبی گروپ کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیے بغیر تشدد کے متاثرین کی فوری مدد کرنی چاہیے ۔قابل ذکر ہے کہ کولہاپور اور شاہواڑی پولیس نے تشدد کے سلسلے میں 21 لوگوں کو گرفتار کیا اور 500 سے زیادہ لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ۔ تشدد کے بعد ضلع انتظامیہ نے وشال گڑھ قلعہ کے علاقے سے تجاوزات ہٹانے کی کارروائی تیز کردی ہے ۔ پیر کی شام تک تقریباً 35 غیر قانونی دکانیں مسمار کی گئیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے قلعہ کے آس پاس سے تجاوزات ہٹانے کے لئے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی ہے ۔دریں اثنا، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر امتیاز جلیل نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تشدد اور پتھراؤ، قلعہ کے قریب دکانوں کو نقصان پہنچانے کے خلاف ایم آئی ایم کے کارکنان 19 جولائی کو کولہاپور میں ایک مورچہ نکالیں گے ۔