اسمبلی میں منظور ہونے والے بلز کو بی آر ایس کونسل میں روک سکتی ہے
حیدرآباد ۔ 7 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : حالیہ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں بی آر ایس اقتدار سے محروم ہوگئی ہے ۔ تاہم عددی طاقت کی بنیاد پر بی آر ایس آئندہ دو سال تک قانون ساز کونسل میں اپنا اثر و رسوخ جاری رکھ سکتی ہے ۔ گورنر کوٹہ کی کونسل میں دو نشستیں مخلوعہ ہیں ۔ ان مخلوعہ نشستوں پر کانگریس حکومت کی جانب سے دو ناموں کو گورنر سے سفارش کرنے کا قوی امکان ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کونسل میں کانگریس ارکان کی تعداد تین تک پہونچ جائے گی ۔ تلنگانہ کے نئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو کونسل میں بلوں کی منظوری کے معاملے میں آندھرا پردیش جیسی صورت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ آندھرا پردیش قانون ساز کونسل میں تلگو دیشم ارکان کی اکثریت کی وجہ سے بلوں کی منظوری کے معاملے میں دشواریوں اور مشکلات کا سامنا ہے جب کہ اسمبلی میں اکثریت کی وجہ سے بلز آسانی سے منظور ہورہے ہیں ۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں بلوں کو منظور کرانا بہت بڑا چیلنج ہے ۔ اسمبلی میں پھر بھی یہ ممکن ہے ۔ ایوان میں عددی طاقت کے لحاظ سے بلز کی منظوری میں کوئی مشکلات پیش نہیں آئیں گی ۔ مگر کونسل میں مشکلات پیش آسکتی ہے ۔ 40 رکنی تلنگانہ قانون ساز کونسل میں فی الحال کانگریس کا ایک ہی رکن ہے ۔ گورنر کوٹہ میں کونسل کی دو نشستیں مخلوعہ ہیں ۔ بی آر ایس حکومت نے ان دو مخلوعہ نشستوں کے لیے داسوجو شراون اور کے ستیہ نارائنا کے ناموں کی سفارش کی تھی تاہم گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے ان تجاویز کو قبول نہیں کیا تھا ۔ تلنگانہ کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں چار ارکان قانون ساز کونسل نے حصہ لیا تھا اور کامیابی حاصل کی۔ بحیثیت ایم ایل اے حلف لینے کے لیے پہلے انہیں کونسل کی نشستوں سے مستعفی ہونا پڑے گا ۔ ارکان قانون ساز کونسل کے کوٹہ سے کڈیم سری اور پاڈی کوشک ریڈی اور گریجویٹ کوٹہ سے پلاراجیشور ریڈی شامل ہیں ۔ جنہوں نے بی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے ۔۔ ن