کونسل کی گریجویٹ نشستوں کیلئے ٹی آر ایس میں سرگرمیاں تیز

   

حیدرآباد کیلئے مضبوط امیدوار کی تلاش، نامزد ایم ایل سی نشستوں کیلئے کئی دعویدار
حیدرآباد : الیکشن کمیشن سے کونسل گریجویٹ زمرہ کی 2 نشستوں کیلئے انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد برسر اقتدار پارٹی میں ٹکٹکے دعویداروں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ کھمم، ورنگل و نلگنڈہ نشست کی نمائندگی پی راجیشور ریڈی کرتے ہیں جبکہ حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر نشست بی جے پی کے ایم رامچندر راؤ کے تحت ہے۔ اِن کی میعاد آئندہ سال مارچ میں ختم ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے دونوں حلقوں میں ووٹر لسٹ کی تیاری کا عمل شروع کیا ہے جس کے تحت گریجویٹ افراد اپنے نام شامل کراسکتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں تلنگانہ این جی اوز لیڈر جی دیوی پرساد کو ٹی آر ایس نے ٹکٹ دیا تھا لیکن بی جے پی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا لہذا اِس مرتبہ ٹی آر ایس مضبوط امیدوار کو اُتارنا چاہتی ہے تاکہ بی جے پی کو شکست دی جاسکے۔ دیوی پرساد دوبارہ ٹکٹ کیلئے کوشاں ہیں جبکہ کے ٹی آر ذرائع میئر بی رام موہن کا نام پیش کررہے ہیں۔ سابق رکن اسمبلی پی ایل سرینواس نے دعویداری پیش کی ہے۔ 2007 ء میں سرینواس کو محض 400 ووٹوں سے شکست ہوئی تھی ۔ نلگنڈہ، کھمم و ورنگل پر مشتمل گریجویٹ نشست کیلئے پی راجیشور ریڈی مضبوط دعویدار ہیں ۔ان کا شمار چیف منسٹر کے بااعتماد رفقاء میں ہوتا ہے ۔ اِس حلقہ سے تلنگانہ جنا سمیتی کے پروفیسر کودنڈا رام مقابلہ کے خواہاں ہیں اور وہ کانگریس، تلگودیشم اور بائیں بازو کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر وہ مقابلہ کرتے ہیں تو ٹی آر ایس اپنا امیدوار تبدیل کردیگی۔ ذرائع نے بتایا کہ ایم ایل سی ٹکٹ کیلئے کئی دعویدار کے ٹی آر سے ربط میں ہیں۔ اِسی دوران گورنر کوٹہ کی 3 ایم ایل سی نشستوں کیلئے ٹی آر ایس میں مسابقت شروع ہوچکی ہے۔ 9 اکٹوبر کو نظام آباد مجالس مقامی نشست کیلئے کویتا مقابلہ کررہی ہیں۔ سابق وزیر نرسمہا ریڈی، گورنمنٹ وہپ کے پربھاکر کی میعاد کی تکمیل اور راملو نائک کو کانگریس میں شمولیت کے بعد نااہل قرار دینے سے تینوں نشستیں مخلوعہ ہیں۔