لکھنؤ:24مارچ(سیاست ڈاٹ کام)روزمرہ کی ضروریات میں استعمال ہونے والے اشیاء کی کمی نہ ہونے دینے کے یوپی حکومت کی یقین دہانی کے درمیان کورونا وائرس سے نبردآزما ہونے کے لئے سیاست داں اور رضاکار تنظیمیں مالی تعاون کے لئے سامنے آنی لگی ہیں۔ریاست میں پیر کی رات تک کوڈ19 سے متآثرہ مریضوں کی تعداد 33 ہوچکی تھی جبکہ ان میں سے 11 افراد مکمل صحت یاب ہوکر گھر جاچکے ہیں جبکہ دیگر کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے ۔ حکومت نے وبائی بیمارکو پھیلنے سے روکنے کے لئے پورے یوپی میں لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے ۔ اور لوگوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی کے لئے ضلع انتظامیہ کو سخت احکامات دئیے گئے ہیں۔کووڈ۔19 سے نمٹنے کے لئے ضروری ماسک۔ سینیٹائزر جیسے اشیاء کے لئے عوامی نمائندوں اور تنظیموں نے اپنے خزانے کھول دئیے ہیں۔ نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے اپنے ایم ایل اے فنڈ سے ایک کروڑ روپئے دینے کی پیشکش کی ہے وہیں سیتا پور،امبیڈکر نگر کے اراکین اسمبلی نے دس۔دس لاکھ روپئے دینے کا اعلان کیا ہے ۔ قنوج کے رکن پارلیمان نے اپنے فنڈ سے 50 لاکھ روپئے دینے کا اعلان کیا ہے ۔وہیں یوپی شیعہ سنٹرل وقف بورڈ نے وبائی بیماری سے بچاؤ کے لئے حکومت کی جانب سے کئے جارہے اقدامات میں اپنی شمولیت درج کراتے ہوئے غریبوں کو مفت میں راشن دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف سماجی تنظیمیں اور افراد رضا کارانہ طور سے مستحقین کی مدد کے لئے سامنے آنے لگے ہیں۔وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کورونا کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے گھروں میں ہی رہنے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے پیر دیر رات اعلی سطحی میٹنگ کے بعد کہا کہ سبزیوں اور دوا جیسی بنیادی ضرورت کی چیزوں کو گھروں تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے تاکہ سڑکوں پر بھیڑ کم کیا جاسکے ۔ انہوں نے بھروسہ دلایا کہ ریاست میں کورونا وائرس کے حوالے سے حالات قابو میں ہیں حالانکہ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے ۔اس درمیان پرنسپل سکریٹری(داخلہ) اونیش اوستھی نے لاک ڈاؤن کے ضمن میں افسران کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوا،کھانے پینے کی اشیاء سمیت دیگر ضروری اشیاء کو لانے لے جانی والی گاڑیوں کو نہ روکا جائے ۔ ریلوے اور محکمہ ڈاک جیسے اہم ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کی آمدورفت میں سہولت کے لئے پاس دستیاب کرائے جائیں۔