کووڈ ٹیکہ اندازی میں امریکہ کا نیا سنگ میل

   

ٹیکہ لینے والے افراد کی تعداد متاثرہ افراد سے زیادہ

اسرائیل ، یو اے ای اور برطانیہ بھی سنگ میل عبور کرنے والے ممالک
کورونا کی نئی قسم کیلئے جانسن اینڈ جانسن کا ٹیکہ غیرموثر
مختلف پروفیسرس اور ریسرچ اسکالرس کے تاثرات

واشنگٹن: اب جبکہ کورونا وائرس وباء اپنا ایک سال مکمل کرنے والی ہے اور جس نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، دنیا کے سوپر پاور امریکہ کو لہذا اب امریکہ نے کورونا سے لڑائی میں ایک نیا سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ پیر تک کی اطلاعات کے مطابق 26.5 ملین امریکیوں نے موجودہ دونوں ویکسینوں کے یا ان میں سے ایک ویکسین کی خوراک لے لی ہے۔ بلومبرگ ویکسین ٹریکر نے یہ ڈیٹا تیار کیا ہے۔ یاد رہے کہ سیاٹل میں ایک سال قبل کورونا کا پہلا مریض دریافت ہوا تھا اور اس کے بعد سے 26.3 ملین امریکی شہری کورونا سے متاثر تھے جبکہ 443,000 امریکی شہری اس مہلک وبا سے فوت بھی ہوئے۔ جان ہاپکنس یونیورسٹی سے جاری ڈیٹا میں یہ اعداد و شمار بتائے گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ دیگر تمام ممالک کے مقابلے ٹیکہ اندازی انتہائی تیز رفتار سے جاری رکھے ہوئے ہے جن میں یومیہ 1.34 ملین خوراکیں شامل ہیں۔ اسی دوران جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے کیک اسکول آف میڈیسن میں پروفیسر برائے مائیکرو بائیولوجی کی خدمات انجام دینے والی پالاکینن نے بتایا کہ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ اب تک ٹیکہ لینے والوں کی تعداد حالیہ متاثرہ افراد کی تعداد سے تجاوز کرگئی ہے۔ یہ ایک ایسا سنگ میل ہے جسے دھوم دھام سے منائے جانے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک طرح سے کووڈ کے خلاف ہماری جیت ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ امریکہ کے علاوہ ایسے چند ہی ممالک ہیں جنہوں نے یہ منفرد سنگ میل عبور کیا ہے جن میں اسرائیل، برطانیہ اور یو اے ای ایسے ممالک ہیں جہاں اب ٹیکہ لینے والوں کی تعداد کووڈ سے متاثرہ افراد سے زائد ہوگئی ہے۔ دریں اثناء متعدی بیماریوں کے ڈپٹی ڈائریکٹر جے بٹلر نے بتایا کہ کووڈ ٹیکہ اندازی کے باوجود قومی سطح پر متاثرین کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے۔ انفیکشن ڈیزیزس سوسائٹی آف امریکہ کی جانب سے منعقدہ ایک بریفنگ کے دوران موصوف نے یہ بات کہی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی آفریقہ میں جس نوعیت کے ویرینٹس ایک بار پھر سر اُبھار رہے ہیں، اس سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کورونا ایک بار پھر اپنا زور دکھا سکتا ہے۔ مطالعہ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ جانسن اینڈ جانسن اور نووا ویکس Inc کی جانب سے جو ویکسین تیار کی گئی ہیں، وہ نئے اسٹرین کیلئے موثر نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کی بھی ٹیکہ اندازی کی گئی ہے جن کو کوئی خاص خطرات لاحق نہیں ہیں اور اگر ایسا ہی طریقہ کار جاری رہا تو وباء اور شرح اموات میں کمی کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لاجولا انسٹیٹیوٹ آف ایمینولوجی کی ریسرچ اسسٹنٹ پروفیسر ڈینیلا وسکاف نے بتایا کہ نئی قسم کے وائرس نے ٹیکہ اندازی کی مہم کو مزید تیز کرنے کا اشارہ دیدیا ہے۔ جب جب کووڈکی شدت میں کمی آئے گی۔ تب تب ایک نئی قسم کا وائرس (ویرینٹ) ابھر کر سامنے آئے گا لہذا اس کو قابو میں کرنے ہم جتنی تیزی سے حرکت میں آئیں گے اتنے ہی نئے قسم کے وائرس کے مزید پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔