کووڈ کی دوسری لہر کے سبب مینوفیکچرنگ میں سست روی

   

نئی دہلی: کووڈ-19 کی دوسری لہر کے سبب مئی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی رفتار سست پڑ گئی اور اس کی شرح نمو 10 مہینے کی نچلی سطح پر آ گئی۔ آئی ایچ ایس مارکیٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کا پرچیز مینیجر انڈیکس (پی ایم آئی) 50.8 درج کیا گیا جو اپریل کے 55.5 کے مقابلے کافی کم ہے ۔ یہ گذشتہ برس جولائی کے بعد کی نچلی سطح ہے ۔ پی ایم آئی کا 50 سے اوپر رہنا نمو کا اور اس سے کم رہنا گراوٹ کا مظہر ہے جبکہ 50 کی سطح استحکام بتلاتا ہے ۔ آئی ایچ ایس مارکیٹ کی اکنامکس اسوسی ایٹ ڈائریکٹر پالیانا ڈی لیما نے سروے رپورٹ کے اعداد و شمار پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا،‘کووڈ-19’ وبا کے زور پکڑنے سے ہندوستانی مینوفیکچرنگ سیکٹر پر دباؤ کے نشان دکھنے لگے ہیں۔ فروخت، پروڈکشن اور خام مال کی خرید جیسے اہم پیمانوں میں مئی میں کافی گراوٹ نظر آئی اور یہ 10 مہینے کی نچلی سطح پر آ گیا۔ اپریل کے مقابلے تمام پیمانوں میں گراوٹ تھی۔ نئے آرڈر میں کمی آنے سے کمپنیوں نے اہلکاروں کی چھٹنی جاری رکھی۔ چھٹنی کی رفتار مئی میں بڑھ گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبا بڑھنے اور ڈیمانڈ پر اس کے اثر کے سبب نئے آرڈر اور پروڈکشن میں 10 ماہ کی سب سے سست نمو ہوئی ہے ۔ بیرون ملک سے ملنے والے آرڈر کی رفتار بھی سست پڑ گئی۔ خام تیل کی خرید بھی بے حد سست رفتار سے بڑھی اور کمپنیوں میں لوگوں کو نوکری سے نکالا۔ کووڈ-19 سے وابستہ پابندیوں اور نئے آرڈر کی کمی کے سبب کمپنیوں نے اپریل کے مقابلے زیادہ چھٹنی کی۔