کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور اثرات ، معمول کے امراض کے علاوہ گردہ ، جگر ، قلب ، امراض شکم کی علامتیں
حیدرآباد۔17اپریل(سیاست نیوز)
l کورونا وائرس عام طور پر جسم میں ناک اور منہ کے ذریعہ داخل ہوتا ہے اور پھیپڑوں میں جگہ بنالیتا ہے اور ہوا کی نالیوں میں پناہ حاصل کرتے ہوئے متاثر کرتا ہے۔
l نالیو ںمیں جگہ بنانے کے بعد یہ اپنے وائرس کو پھیلانا شروع کرتا ہے اور مدافعتی خلیات کو ختم کرنے لگتا ہے اور اس کے پیدا ہونے والے وائرس بھی ان خلیات پر حملہ آور ہونے لگتے ہیں۔
l جب وائرس حملہ آور ہوتا ہے توایسی صورت میں مدافعتی نظام کمزور ہونے لگتا ہے اور ہوا کی نالی میں سوجن پیدا ہونے لگتی ہے جس کے سبب سانس لینے میں تکلیف اور سوکھی کھانسی کی شکایت ہونے لگتی ہے۔
l وائرس کے شدید حملہ کی صورت میں حرکیاتی خلیات تیزی سے متشر ہونے لگتے ہیں جس سے عارضہ تنفس لاحق ہونے لگتا ہے اور اس کے سبب قوت دفاع کمزور ہوتے ہوئے جسم کو نقصان پہنچنے لگتا ہے۔
l پھپڑوں میں موجود ہوا کی نالیوں کے متاثر ہونے کی صورت میں سانس لینے میں دشواری اور مریض کے دیگر اعضائے رئیسہ پر حملہ کے سبب اسے عارضی آلۂ تنفس پر رکھنا پڑتا ہے ۔
اس مرض سے شفاء کے لئے
6ہفتہ درکار ہوسکتے ہیں
اکثر کورونا وائرس کے مریض ہلکے اور متوسط درجہ کے حملہ کا شکارہوتے ہیںجن کا فیصد 80-85 تک ہے اور 15تا20 فیصد مریضوں میں شدیدعلامات پائی جاتی ہیں۔ ہلکے اور اوسط درجہ کے حملہ کا شکار مریضوں کو صحتیاب ہونے کے لئے 6ہفتہ لگتا ہے جبکہ شدیدحملوں کے شکار مریضوں کو کچھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
معمولی مریض
جن مریضوں کو اعضاء شکنی ‘ کھانسی ‘ تھکان اور اختلاج کی کیفیت محسوس ہوتی ہے انہیں دو ہفتوں کے بعد بخار اور دیگر امراض بھی ہوسکتے ہیں اور اگر کو گھر میں خود کو سب سے علحدہ رکھتے ہوئے آرام کرتے ہیں تو ایسی صورت میں کو صحتیاب ہوسکتے ہیں۔
اوسط درجہ کے مریض
اوسط درجہ کے حملہ کا شکار مریضوں کو چند دنوں کیلئے دواخانہ میں شریک کرنا پڑسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پرانہیں آکسیجن کی فراہمی ناگزیر ہوتی ہے۔
بعض مریضوں کو شدید بخار اور دست کی شکایات ہونے لگتی ہیں جس کے سبب انہیں گلوکوز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔
شدید مرض میں مبتلاء
بیشتر شدید مرض میں مبتلاء مریضوں کو سانس لینے میں دشواری اور عارضہ تنفس کے سبب بے چینی کا سامنا ہوتا ہے جو کہ پھیپڑوں میں فلوئیڈ جمع ہونے کے سبب ہوتا ہے اور ایسی صور ت میں مریض کو عارضی آلۂ تنفس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو کہ 2ہفتوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
l ضعیف مریض کی اگر یہ صورتحال ہوتی ہے اور وہ شدید حملہ کا شکار ہوتا ہے جو پہلے سے عارضہ قلب میں مبتلاء ہو تو اس کے لئے حالات ناگہانی ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کا نظام دفاع پہلے سے کمزور ہوتا ہیاور وہ ARDS عارضہ تنفس کے سبب پیدا ہونے والی شکایت کا مقابلہ کرنے کے متحمل نہیں ہوتے۔
l ARDS یعنی عارضہ تنفس کا شکار ہونے والے افراد کی اموات کی شرح 30تا40 فیصد ہے اور عارضہ تنفس کسی بھی وجہ سے ممکن ہے اور سابقہ ریکارڈ پر انحصار کرتا ہے۔
l جو مریض مصنوعی آلہ تنفس پر رکھے جانے کے بعد صحتمند ہوتے ہیں ان میں بعد علاج وزن گرنے اور کمزوری کی شکایات پائی جاتی ہیں جو بتدریج کم ہوتی جائیں گی۔
l جن مریضوں کے پھیپڑوں کی کارکردگی مصنوعی آلہ تنفس پر بھی بہتر نہیں ہوتی انہیں مابعد علاج بھی تنفس کے مسائل کا طویل مدت تک سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
دواخانہ سے
ڈسچارج کے اصول
l دواخانہ سے ڈسچارج سے قبل مریض کو اندرون 24گھنٹے دو مرتبہ کورونا وائرس کے مرض کا معائنہ کرنا ہوتا ہے اور اگر دونوں وقت منفی پائے جائیں تو انہیں ڈسچارج کی اجازت دی جاتی ہے۔
l چین میں ڈسچارج کیلئے منفی معائنہ پائے جانے کے بعد بھی 3تا5یوم تک مریض کو دواخانہ میں ہی رکھا جاتا رہا ہے۔
l امریکہ میں CDC کی جانب سے مروجہ اصولوں کے مطابق مریض کے منفی معائنہ کے بعد اسے ایک ہفتہ دواخانہ میں رکھا جا رہاہے۔
l ہندستان میں مریض کو منفی معائنہ کے بعد ڈسچارج کرتے ہوئے 14یوم کے شخصی قرنطینہ کی تاکید کی جا رہی ہے۔
l مریض کو ڈسچارج کرنے کیلئے اس کے چلنے پھرنے اور حرکت کرنے کے قابل ہونا ناگزیر ہے اور اسے آکسیجن کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے ۔